تاجر برادری نے توانائی بچت پالیسی مسترد کر دی

اسلام آباد:حکومت نے ملک بھر میں قومی توانائی بچت پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا جبکہ وفاقی کابینہ نے قومی توانائی بچت پلان کی منظوری دے دی، کراچی سمیت ملک بھر کے چھوٹے بڑے تاجروں نے توانائی بجٹ پالیسی مسترد کردی اور حوالے اپنی حکمت عملی جلد مرتب کرنے کااعلان کیاہے ، تاجر تنظیموں کا کہناہے کہ حکومت کاروبار پر قدغن کے بجائے متبادل ذرائع اختیار کرے ورنہ سخت احتجاج کیا ج۔

کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ سمیت ملک بھر میں ریستوران اور مارکیٹیں رات آٹھ بجے بند ہوں گی۔سرکاری دفاتر میں 20 فیصد ورک فرام ہوم ہوگا۔

نئی بچت پالیسی کے تحت ریسٹورنٹس، ہوٹل اور مارکیٹیں رات 8 بجے بند ہو جائیں گی۔ شادی ہال رات 10 بجے بند کر دیئے جائیں گے۔

اس سے سالانہ 62 ارب روپے کی بچت ہو گی۔ امپورٹ بل میں کمی کیلئے ای بائیکس متعارف کی جائیں گی۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے مریم اورنگزیب اور قمر زمان کائرہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرت ہوئے کہاکہ سرکاری اداروں میں میں 20 فیصد ملازمین روٹیشن کی بنیاد پر ورک فراہم ہوم کریں تو 56 ارب روپے کی سالانہ بچت ہو گی۔پرانے پنکھے 120 واٹ کے ہیں۔ نئے 60 واٹ کے پنکھے لگانے سے سالانہ 15 ارب روپے بچیں گے۔

پرانے بلبوں کی جگہ ایل ای ڈی لگانے سے 23 ارب بچیں گے۔نئے بلب، نئے پنکھے اور انورٹر اے سی استعمال کریں تو سالانہ 9 ہزار ڈالر بچت ہو گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت گیزرز میں کونیکل بیفلز لگانے کی مہم چلائے گی، تمام گیزرز میں کونیکل بیفلز استعمال ہوں تو سالانہ 92 ارب روپے بچیں گے۔

اسٹریٹ لائٹس آدھی جلائیں اور آدھی بند رکھیں تو 4 ارب بچیں گے۔ان کا کہنا ہے کہ موٹر سائیکلز کی جگہ الیکٹرک بائیکس آ جائیں تو 86 ارب روپے کی بچت ہو گی۔ زراعت میں جتنا پانی استعمال ہوتا ہے، پودوں کو اس کے صرف 10 فیصد کی ضرورت ہوتی ہے۔ باقی پانی بچایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں سورج کی 50 فیصد روشنی استعمال ہی نہیں کی جاتی، مارکیٹیں دن ایک بجے کھول کر رات 2 بجے بند کرنے کا رواج سمجھ نہیں آتا۔ ملک سنگین معاشی بحران کا شکار ہے۔چادر کے حساب سے پاؤں پھیلانا ہوں گے، بچت پلان کے اکثر نکات پر عملدرآمد صوبے کروائیں گے۔ دو دن کے اندر تمام صوبوں سے رابطہ کر کے تجاویز پرمشاورت کریں گے،جمعرات کو حتمی شکل دیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: