اسمبلی تحلیل نہ کرنے کی یقین دہانی ،لاہور ہائیکورٹ نے پرویزالٰہی کو بحال کردیا

لاہور :پنجاب اسمبلی تحلیل نہ کرنے کی تحریری ضمانت کی یقین دہانی پر لاہور ہائیکورٹ نےوزیر اعلیٰ پنجاب کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا نوٹیفکیشن معطل کردیا۔

عدالت نے چوہدری پرویز الٰہی کو بطور وزیر اعلیٰ پنجاب بحال کردیا۔لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب کابینہ کو بھی بحال کردیا۔

عدالت نے پرویز الٰہی کی طرف سے اسمبلیاں تحلیل نہ کرنے کا بیان حلفی جمع کروانے پر گورنر کا ڈی نوٹی فائی کرنے کا نوٹیفکیشن معطل کیا۔

عدالت نے کیس کی سماعت 11جنوری تک ملتوی کردیا۔لاہور ہائیکورٹ نے گورنر پنجاب ، اٹارنی جنرل سمیت دیگر کو نوٹسز جاری کر دیئے۔

لاہور ہائیکورٹ نے پرویز الٰہی کو وزیر اعلٰی کے عہدے سے ڈی نوٹیفائی کرنے کیخلاف درخواست پر سماعت کے دوران ریمارکس دئیے ہیں کہ گورنر اعتماد کے ووٹ کا کہیں تو آپ کہیں کہ ہم اسمبلی توڑ رہے ہیں،نوٹیفکیشن پر عملدرآمد روک دیں اور آپ اسمبلیاں توڑ دیں تو نیا بحران پیدا ہو گا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ اگر ہم ابھی وزیراعلیٰ کو بحال کردیں تو کیا آپ اسمبلیاں توڑ دیں گے؟عدالت نے بیرسٹر علی ظفر کو پرویز الٰہی سے ہدایات لینے کیلئے وقت دے دیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ ہمیں آپ پہلے بیان حلفی دیں تو پھر اس پر حکم جاری کریں گے۔

لاہور ہائیکورٹ میں پرویز الٰہی کو وزیر اعلٰی کے عہدے سے ڈی نوٹیفائی کرنے کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔

جسٹس عابد عزید شیخ نے ریمارکس دئیے کہ رولز کے مطابق گورنر کو اعتماد کے ووٹ کیلئے تاریخ مقرر کرنے کا اختیار ہے،تاریخ کتنے دن کی ہو گی وہ الگ بحث ہے۔

عدالت نے ریمارکس دئیے کہ رولز کے مطابق گورنر مدت کا تعین کر سکتا ہے۔ پرویز الٰہی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ یہ اسمبلی رولز ہیں مگر آئین میں نہیں،گورنر اعتماد کا ووٹ لانے کا کہہ سکتا ہے اور اجلاس بلائے گا۔

اس سارے عمل کے لیے مناسب وقت دینا چاہیے،جب اسپیکر اجلاس بلائے گا تب ہی اعتماد کا ووٹ لیا جا سکتا ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب ہوا میں تو نہیں اعتماد کا ووٹ لے سکتے۔ وکیل علی ظفر نے کہا کہ اب وزیر اعلٰی کو گورنر نے روک دیا ہے تو وہ کیسے اعتماد کا ووٹ لے سکتے ہیں،یہ تنازع اسپیکر اور گورنر کے درمیان ہے۔گورنر نے وزیر اعلٰی کو کام سے روک دیا ہے،گورنر کو اختیار ہی نہیں کہ وہ وزیر اعلٰی کو ہٹائے،گورنر نے ایک دن کے نوٹس پر اعتماد کے ووٹ کا کہا۔

جسٹس عابد عزیز شیخ نے استفسار کیا کہ پھر اس کے بعد کیا ہوا؟ بیرسٹر علی ظفر نے بتایا کہ اسپیکر نے گورنر کے نوٹیفکیشن پر رولنگ دی۔

جسٹس عاصم حفیظ نے ریمارکس دئیے کہ اگر جاری اجلاس میں گورنر نے ووٹ کا کہا تو پھر کیا ہو گا؟ وکیل علی ظفر نے بتایا کہ اسپیکر پہلے جاری اجلاس کو ختم کرے گا پھر نیا اجلاس ہو گا،عدالت نے ریمارکس دئیے کہ رولز میں ایسا کچھ نہیں کہ جاری اجلاس میں اعتماد کے ووٹ کا نہیں کہا جا سکتا۔

بیرسٹر علی ظفر نے کہا میں اس بات پر اتفاق کرتا ہوں۔ جسٹس عابد عزیز شیخ نے قرار دیا کہ گورنر کا اختیار ہے کہ وہ جب مرضی ووٹ کا کہہ دے۔ عدالت نے ریمارکس دئیے کہ اگر آپ کے پاس اکثریت ہے تو پھر ڈر کس بات کا؟ یہ سارا بحران ختم ہو سکتا ہے،فیصلہ تو اسمبلی نے کرنا ہے۔ بعد ازاں عدالت نے سماعت 10 منٹ کے لیے ملتوی کر دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: