اسلام آباد بڑی تباہی سے بچ گیا، چیکنگ پر بمبارنے خودکواڑالیا،اہلکار شہید، 8 زخمی

اسلام آباد: اسلام آباد بڑی تباہی سے بچ گیا، سیکٹر آئی ٹین میں گاڑی کو روکنے پر خودکش دھما کے میں پولیس اہلکار شہید ہوگیا ، 4 اہلکاروں سمیت 8 افراد زخمی ہوگئے ۔ جبکہ حملہ آور ہلاک ہو گیا ۔پولیس کے مطابق سیکٹرآئی ٹین فور کی گلی نمبر31 کے باہر پولیس نے ٹیکسی روکی جس کی تلاشی لینے کے دوران دھماکہ ہوا،دھماکے میں ایک پولیس اہلکار شہید اور 8 افراد زخمی ہوگئے جنہیں ہسپتال منتقل کردیا گیا ۔

شہید اہل کار کی شناخت ہیڈ کانسٹیبل عدیل حسین کے نام سے ہوئی ۔ دو اہلکاروں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے ۔ ترجمان آئی جی اسلام آباد کے مطابق دھماکہ اس وقت ہوا جب پولیس ٹیم کے ایک اہلکار نے مشکوک گاڑی کو رکنے کا اشارہ کیا،گاڑی کے رکتے ہی دھماکہ ہوگیا۔

ترجمان نے بتایا کہ دھماکہ خود کش تھا۔ اسلام آباد میں سکیورٹی ہائی الرٹ تھی اور چیکنگ چل رہی تھی ۔ دھماکہ بارودی مواد کے پھٹنے سے ہوا، اور اس میں پولیس اہلکاروں کو ہدف بنایا گیا۔دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی، حملہ آورکے اعضا جائے وقوعہ پر پھیل گئے ،گاڑی میں آگ لگ گئی جس کے شعلے بلند ہوتے رہے۔جبکہ ملحقہ علاقوں میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے تحقیقات شروع کردی گئی ۔اطراف کی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے ۔

وزیر داخلہ رانا ثنا ء اللہ نے کہا بارود سے بھری گاڑی اسلام آباد میں ہائی ویلیو ٹارگٹ کو نشانہ بنانے کے لئے روانہ کی گئی تھی۔ اسلام آباد بڑے حادثے سے محفوظ رہا،فرض شناسی پر اسلام آباد پولیس کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

راناثنااللہ نے کہاکہ گاڑی کو روکا نہ جاتا تو بڑی تباہی ہوتی۔خیبرپختونخوا کی جانب زیادہ نظر رکھنے کی ضرورت ہے، صوبائی حکومت خود زمان پارک میں بیٹھی ہے۔ بعد ازاں ترجما ن اسلام آباد پولیس نے واضح کیا اس گاڑی میں خاتون نہیں تھی۔ حملہ آور یا ڈرائیور نے چادر اوڑھ رکھی تھی جس سے خاتون کے ہونے کا گمان ہوا۔

صدر مملکت عارف علوی، وزیر اعظم شہباز شریف، عمران خان ، آصف زرداری اور بلاول بھٹوزرداری، مولانا فضل الرحمان ، سراج الحق ، دیگر سیاسی اور سماجی شخصیات نے دھماکہ کی شدید مذمت کی ہے۔ وزیراعظم نے اسلام آباد کے سیکٹر آئی 10 فور میں خود کش دھماکے کی شدید مذمت کی اور رپورٹ طلب کر لی۔

وزیراعظم نے کہاکہ الحمدﷲ! قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت کارروائی سے بے گناہوں کا خون بہانے کا بڑا اور مذموم منصوبہ ناکام ہوگیا۔ شہبازشریف کی پولیس اہلکار کو شہدا پیکج دینے کی ہدایت بھی کردی۔ وزیر اعظم نے آئی جی اسلام آباد ڈاکٹر اکبر ناصر خان کو غیرمعمولی بہادری کا مظاہرہ کرنے والے اہلکاروں کو انعام اور تعریفی اسناد دینے کی ہدایت کی ۔

عمران خان نے کہا جان کی قربانی دینے والے پولیس اہلکار کو سلام پیش کرتا ہوں ۔ملک میں امن و امان کی صورت حال دن بدن خراب ہو رہی۔

آصف علی زر داری اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد پولیس کے جوانوں نے اپنی جان کی پرواہ کیئے بغیر اپنا فریضہ ادا کیا ہے۔ وزیر اطلات مریم اونگرزیب نے کہا اسلام آباد بڑی تباہی سے بچ گیا، الحمدﷲ۔پولیس کو خراج تحسین پیش کرتےہیں۔

شیری رحمن نے بھی دھماکے کی مذمت کی۔ چیئرمین سینٹ محمد صادق سنجرانی نے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہا کہ دہشت گرد اپنے مذموم مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔

شہید ہیڈکانسٹیبل عدیل حسین کی نماز جنازہ پولیس لائن ہیڈ کوارٹرز میں ادا کر دی گئی،نماز جنازہ میں سیکرٹری داخلہ ،آئی جی اسلام آباد، سی پی اوآپریشز ، سول انتظامیہ ،رینجرزو دیگر سینئرپولیس افسران سمیت بڑی تعداد میں پولیس ملازمین نے شرکت کی ،شہید کے جسد خاکی پر پھولوں کی چادر یں چڑھائیں اور شہید کے بلند درجات کیلئے فاتحہ خوانی کی بعد میں میت کو تدفین کیلئے آبائی علاقہ روانہ کر دیا گیا۔

اسلام آبادخودکش دھماکے کامقدمہ تھانہ سی ٹی ڈی میں درج کرلیاگیا،مقدمے میں قتل،اقدام قتل،دہشتگردی کی دفعہ 7اے ٹی اے شامل کی گئی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: