پاناما فیصلہ، وکلاء کے اتحاد کو نقصان پہنچ سکتا ہے

پاکستان میں وکلا کی سب سے بڑی دو تنظیموں نے لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی طرف سے پاناما لیکس کے فیصلے کے بعد وزیر اعظم کے خلاف احتجاجی تحریک چلانے کے اعلان سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے۔

پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اس فیصلے کو بچگانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کو یہ فیصلہ کرتے وقت انھیں اعتماد میں لینا چاہیے تھا۔

لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے دو روز قبل ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ پاناما لیکس کے فیصلے میں پانچ میں سے دو ججز نے وزیر اعظم کونااہل قرار دیا ہے اس لیے میاں نواز شریف سات روز میں اپنے عہدے سے الگ ہو جائیں۔

ان عہدیداروں کا کہنا تھا کہ ایسا نہ ہونے کی صورت میں وکلا ملک گیر تحریک چلائیں گے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر رشید اے رضوی کا کہنا ہے کہ اس فیصلے میں ججوں کی اکثریت نے اس معاملے کی انکوائری کے لیے تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس ٹیم کی رپورٹ کا انتظار کیا جانا چاہیے۔

اُنھوں نے کہا کہ جلد بازی میں کیے گئے فیصلوں سے وکلا اتحاد کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین محمد احسن بھون کے مطابق عدلیہ کی آزادی کی تحریک اس لیے کامیاب ہوئی کیونکہ وکلا برادری متحد تھی۔

اُنھوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ عدلیہ کے فیصلوں کا احترام کیا جائے اور وکلا برادری سیاسی وابسطگیوں سے بالا تر ہو عدلیہ کو مضبوط کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: