دھڑوں‌ کا انضمام : ’خالد مقبول 10 سال قیادت کریں گے‘

ایم کیو ایم پاکستان سے پانچ اور تین سال پہلے علیحدہ ہوکر سنگین الزام لگانے والے دھڑے خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں ایک ہوگئے جبکہ عامر خان کی بھی واپسی ہوئی جو کسی بڑے سرپرائز سے کم نہیں ہے۔

ایم کیو ایم کے عارضی مرکز بہادرآباد میں مصطفیٰ کمال اور فاروق ستار نے خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں کام کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اپنے گروپوں کو ایم کیو ایم پاکستان میں ضم کرنے کا اعلان کیا۔

اس موقع پر خالد مقبول صدیقی نے سب کو خوش آمدید کہا  اور اتحاد کو وقت کی ضرورت قرار دیا۔

مصطفیٰ کمال نے مقتدر حلقوں سے اس موقع پر مطالبہ کیا کہ وہ کراچی کے نوجوانوں کیلیے عام معافی کا اعلان کریں اور ایک ایمنسٹی متعارف کرائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے شہر میں رات کا تسلط اس لیے نہیں توڑا کہ یہاں زرداری قبضہ کرے، ہم شریف کیا ہوئے ساری دنیا بدمعاش بن کر ہمارے حقوق غضب کرنے لگی۔

انہوں نے کہا کہ ’کوئی ڈسٹرکٹ سینٹرل تو کوئی ڈسٹرکٹ کورنگی پر قبضہ کرنے کا خواب دیکھنے لگا، آج مصطفی کمال اور اسکے ساتھئ ایک اور ہجرت کرنے آئے ہیں، ہم پاک سرزمین پارٹی سے ایم کیوایم میں ہجرت کرنے آئے ہیں، آصف علی زرداری اپنے وزیروں کو سمجھائیں کہ کراچی کو مخالف کرکے بلاول کو وزیراعظم نہیں بناسکتے‘۔

’آصف علی زرداری صاحب کراچی و حیدرآباد کے دکھوں کا مداوا کرنا پڑے گا، شہری سندھ کو کوئی بنیادی سہولت دستیاب نہیں، ہم میں اختلاف تھا جو کھل کر کیا آج کراچی کیلئے ہم سب متحد ہوئے، کراچی کا پہلے بھی بنایا تھا اب شہر کو دوبارہ بنائیں گے‘۔

فاروق ستار نے کہا کہ آج کا دن پاکستان اور سندھ کے شہری علاقوں کے لیے اہمیت کا حامل ہے، پاکستان کے موجودہ سیاسی اور معاشی بحران میں ایم کیوایم امید کی کرن ہے۔ سیاسی جماعتیں دست وگریباں ہیں مگر ہم ایسے وقت میں اتحاد اور بھائی چارگی کی بات کررہے ہیں، ہمارا عمل بتائے گا ہم کیوں جمع ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ ’جنیوا سے 10 ارب ڈالر کی امداد ہماری غیرت پر سوال ہے ، موقع دیا جائے تو اکیلا کراچی 10 ارب ڈالر کما کر دے سکتا ہے‘۔ فاروق ستار کا کہنا تھا کہ آج ایک منظم اور متحرک ایم کیوایم کا آغاز کررہے ہیں، ایم کیو ایم کی تقسیم زہرِ قاتل تھی، اختلافات کو ایک طرف رکھ کر ایم کیو ایم ایک ہونے جا رہی ہے۔ بائیس اگست کو ایک لکیر کھینچی گئی تو ہم نے بھی لکیر کھینچ دی گئی، بائیس اگست کو جب الگ ہوگئے تو پھر ہم کو بائیس کے مقدمات میں کیوں پھنسایا جارہا ہے، پورے ملک میں سیاسی کشیدگی اور اقتیدار کاجھگڑا چل رہا ہے، ہم ایک ہوکر ملک میں قومی کردار ادار کرنے کا موقع دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ’آئندہ دس سال قیادت خالد مقبول صدیقی کریں گے اور اس دوران ہم نوجوانوں کو قیادت کیلیے کریں گے‘۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: