ترکیہ کے تعلیمی اداروں کے وفد کی وائس چانسلر جامعہ کراچی سے ملاقات

کراچی : ترکیہ کے تعلیمی اداروں کے دورکنی وفد نے گزشتہ روز جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمودعراقی سے وائس چانسلرسیکریٹریٹ جامعہ کراچی میں ملاقات کی۔

اس موقع پر رئیسہ کلیہ فنون وسماجی علوم جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر نصرت ادریس بھی موجودتھیں۔دورکنی وفد استنبول یونیورسٹی کے شعبہ اُردو کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹرخلیل ٹوکر اور یونس ایمرے انسٹی ٹیوٹ کے نائب صدراسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عبداللہ کتلمس یالسن پر مشتمل تھا۔ وفد نے جامعہ کراچی میں شعبہ ترکی کے قیام کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا جس سے جامعہ کراچی کے طلباترکی زبان سیکھنے کے ساتھ ساتھ ترکیہ کے ثقافتی اقدار، ادب، ترکیہ کی تاریخ اور جدید اور پرانے ترکیہ کے دیگر پہلوؤں کے بارے میں آگاہی ملے گی۔

ڈاکٹر عبداللہ کتلمیس یالسن نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ مذکورہ پراجیکٹ جامعہ کے طلبہ کی ایک بڑی تعداد کی توجہ حاصل کرنے میں کامیابی سے ہمکنار ہوگا۔اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے جامعہ کراچی کے طلباوطالبات کے لئے ترکی زبان کے سرٹیفیکیٹ اور ڈپلومہ کورسز شروع کرنے میں بھی دلچسپی ظاہر کی۔پروفیسر ڈاکٹر خلیل ٹوکر نے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی کو بتایا کہ پاکستانی طلبہ کی ایک بڑی تعدادحصول علم کے لیے ترکیہ کا رخ کررہی ہے لیکن ترکی زبان پرعبور،کوئی پس منظر اورسرٹیفیکیٹ نہ ہونے کی وجہ سے ان کا تقریباً ایک سال ترکی زبان سیکھنے میں ہی صرف ہوجاتاہے، وہ ترکی زبان کے امتحانات پاس کرنے کے بعد اپنی پڑھائی شروع کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر طلبہ ترکیہ میں تدریس کے آغاز سے قبل ہی ترکی زبان سے واقفیت رکھتے ہوں اور ترکی زبان کے سرٹیفیکٹ یا ڈپلومہ کورسز کرچکے ہوں تو بلاتاخیر ترکی میں اپنی پڑھائی شروع کرسکتے ہیں۔انہوں نے اسٹوڈنٹس اور فیکلٹی ایکسچینج پروگرام کی خواہش کا بھی اظہار تاکہ دونوں ممالک کی جامعات ایک دوسرے کے زبان وثقافت سے ہم آہنگ ہوسکیں۔

جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے دورکنی وفدکے تجاویز کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے مرحلے میں لینگویج سرٹیفیکیٹ اور ڈپلومہ کورسز شروع کرنا چاہتے ہیں اور پھر جلد ہی جامعہ کراچی میں شعبہ ترکی کے قیام کو یقینی بنایاجائے گا۔وائس چانسلر نے مزید کہا کہ مذکورہ منصوبے کے ذریعے پاکستانی طلباء کے لیے بہترین مواقع میسر آئیں گے جس کی بدولت ترکی زبان پر عبورحاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ترکیہ کی ثقافت کو جاننے اور ترکیہ اور پاکستان کو ایک دوسرے کے مزید قریب لانے میں بھی مددملے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: