آخری بال تک لڑیں گے، تحریک انصاف، سندھ اسمبلی کے باہر احتجاج

کراچی: تحریک انصاف نے سندھ حکومت کی جانب سے ایک بار پھر بلدیاتی الیکشن ملتوی کرنے کے خلاف اسمبلی کے باہر مظاہرہ کیا، جس میں رہنما اور کارکنان نے شرکت کی، سندھ حکومت، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم قیادت کے خلاف نعرے بازی کی گئی، پی ٹی آئی سندھ کے صدر علی زیدی نے کہا کہ الیکشن سے متعلق تماشہ لگا رکھا ہے، الیکشن کمیشن نے سازش ناکام بنادی، 246 میں سے 241 یوسیز پر ہمارے امیدوار کھڑے ہیں، مجبور قومی موومنٹ کے پاس اتنے امیدوار نہیں، الیکشن کیلئے آخری بال تک لڑیں گے۔

انہوں نے کہا کہ جو سکھر، لاڑکانہ، نواب شاہ میں ہوا، وہ تاریخ دوبارہ نہیں دہرانی، ہم امن پسند لوگ ہیں، امن سے الیکشن چاہتے ہیں، جماعت اسلامی سوشل میڈیا پر الیکشن جیت چکی، کراچی کا ووٹر عمران خان کا ہے، کپتان کا ٹائیگر ہے، ہم بھاگنے والے نہیں، 15 جنوری کی رات جیت کا جشن منائیں گے، ایم کیو ایم سچی ہے تو وفاقی حکومت سے علیحدہ ہوجائے۔

پریس کانفرنس میں تحریک انصاف کے مرکزی رہنما، سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا کہ پی پی اور متحدہ بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کی سازش کررہی ہے، پنجاب میں زرداری کو ذلت، رسوائی کا سامنا کرنا پڑا، عام انتخابات شفاف ہوئے تو تحریک انصاف بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگی، اس موقع پر فردوس شمیم نقوی کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے لیڈر آباد اور مہاجر برباد ہورہے ہیں، مردم شماری غلط ہے تاہم بلدیاتی نظام نہ آنا اس سے بڑی غلطی ہوگی، پی پی اور ایم کیو ایم ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں، یہ صرف مال بنانے آتے ہیں، ان کے چہرے بے نقاب ہوچکے، کراچی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، انفراسٹرکچر ٹھیک نہیں ہوا تو ملک ترقی نہیں کرسکتا، تحریک انصاف نے شہر کو امن دیا، گرین لائن، کوریڈور دیا۔

سندھ ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ نے کہا کہ واضح شکست دیکھ کر پی پی اور ایم کیو ایم الیکشن سے راہ فرار اختیار کررہی ہے، اگر ٹانگیں نہیں کانپ رہیں تو ہمارا مقابلہ کرو، تاریکی میں شب خون مارا گیا، انہوں نے مصطفیٰ کمال کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آپ شریف نہیں ہوئے تھے، آپ کو شریف بنایا گیا، اس فیصلے کے خلاف ہم سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے، پی پی اور ایم کیو ایم کو آو مل کر کھاتے ہیں کی پالیسی پر گامزن ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: