نیپال میں مسافر طیارہ کھائی میں گرکر تباہ ، 68 افراد کی ہلاکت کی تصدیق

کھٹمنڈو : نیپال میں علاقائی مسافر طیارہ پوکھرا کے نئے ہوائی اڈے پر لینڈنگ کے دوران میں کھائی میں گرکر تباہ ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں 68 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوگئی ہے۔نیپالی حکام کا کہنا ہے کہ طیارے میں 72 افرادسوار تھے۔گذشتہ تین دہائیوں میں ملک میں یہ سب سے مہلک فضائی حادثہ ہے۔نیپال کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق مسافر طیارہ پوکھرا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے قریباً 1.6 کلومیٹر(قریباً ایک میل) دور دریائے سیتی کے قریب گرکرتباہ ہوا ہے۔

حادثے کے مقام پر امدادی کارکنوں نے ملبے سے لاشوں کو نکالنے کے لیے رسیوں کا استعمال کیا ہے،جن کے کچھ حصے کھائی کے کنارے لٹکے ہوئے تھے۔بعض لاشیں ناقابل شناخت ہوچکی تھی،انھیں اسپتال منتقل کردیا گیا ہے،جہاں غم زدہ رشتہ دار جمع تھے۔

فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ طیارہ گرنے کی وجہ کیا تھی۔حادثے کے ایک عینی شاہد نے بتایا کہ انھوں نے اپنے گھر کی چھت سے لینڈنگ کی کوشش کے دوران میں طیارے کو ہوا میں زور دار گھومتے ہوئے دیکھا۔ گوروگرونگ نے بتایا کہ طیارہ پہلے بائیں جانب گرا اور پھر کھائی میں گرکر تباہ ہوگیا۔حادثے کے بعد طیارے میں آگ لگ گئی اور ہر طرف دھواں پھیل گیا۔ایوی ایشن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ طیارے نے آخری بار صبح 10 بج کر 50 منٹ پر سیتی گورج کے قریب سے ایئرپورٹ سے رابطہ کیا تھا۔نیپال کی یتی ایئرلائنز کا دو انجن والا اے ٹی آر 72 طیارہ دارالحکومت کھٹمنڈو سے پوکھرا کے لیے 27 منٹ کی پرواز کررہا تھا۔

اتھارٹی نے ایک بیان میں کہا کہ طیارے میں 68 مسافر سوار تھے۔ان میں 15 غیر ملکی شہری اور عملہ کے چار ارکان شامل تھے۔ غیر ملکیوں میں پانچ ہندوستانی، چار روسی، دو جنوبی کوریائی اور آئرلینڈ، آسٹریلیا، ارجنٹائن اور فرانس کا ایک ایک شہری شامل ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پرشیئر کی جانے والی تصاویر اور ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حادثے کی جگہ سے دھواں اٹھ رہا ہے جبکہ امدادی کارکن، نیپالی فوجی اور لوگوں کا ہجوم زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کے لیے طیارے کے ملبے کے ارد گرد جمع ہے۔

طیارے کا فرش کئی حصوں میں ٹوٹ چکا تھا اور وہ کھائی میں بکھرے ہوئے تھے۔نیپالی وزیراعظم پشپا کمل دہل نے حادثے کی تحقیقات کے لیے ایک پینل تشکیل دیا ہے۔انھوں نے جائے حادثہ پرپہنچنے کے بعدکہا کہ یہ واقعہ افسوسناک تھا۔ نیپالی فوج اور پولیس کی پوری فورس کو ریسکیو کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔

حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کی قسم اے ٹی آر 72 کو دنیا بھرکی متعدد ایئرلائنز مختصر علاقائی پروازوں کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ 1980 کی دہائی کے اواخر میں فرانسیسی اور اطالوی شراکت داری کے ذریعے متعارف کرایا گیا طیارے کا یہ ماڈل برسوں سے متعدد مہلک حادثات میں کاشکار ہوتا رہا ہے۔

واضح رہے کہ 2018 میں ایران کی آسمان ایئرلائنز کا اے ٹی آر 72 طیارہ دھند کے باعث پہاڑی علاقے میں گر کر تباہ ہوگیا تھا جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار تمام 65 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اے ٹی آر نے ایک ٹویٹ میں حادثے کا شکارطیارے کی شناخت اے ٹی آر 72-500 کے طور پر کی ہے۔ flightradar24.com کے طیارے کی ٹریکنگ کے اعداد و شمار کے مطابق ، طیارہ 15 سال پرانا تھا اور “ناقابل اعتماد ڈیٹا کے ساتھ ایک پرانے ٹرانسپونڈر سے لیس تھا۔ Airfleets.net کے ریکارڈ کے مطابق یتی نے 2019 میں اس کو حاصل کیا تھا۔ اس سے پہلے اسے ہندوستان کی کنگ فشر ایئرلائنز اور تھائی لینڈ کی نوک ایئر نے اڑایا تھا۔ کمپنی کے ترجمان سدرشن بارتولا نے کہا کہ یتی ایئرلائنز کے بیڑے میں چھ اے ٹی آر 72-500 طیارے شامل ہیں۔کٹھمنڈو کے مغرب میں 200 کلومیٹر (125 میل) کے فاصلے پر واقع پوکھرا، اناپورنا سرکٹ کا گیٹ وے ہے، جو ہمالیہ میں پیدل چلنے کا ایک مشہور راستہ ہے۔پوکھرا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے نے صرف دو ہفتے پہلے آپریشن شروع کیا تھا۔ یہ چین کی فنی اور مالی مدد سےتعمیر کیا گیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: