ایران میں مزید 3 افراد کو سزائے موت، علامتی ٹرائل کی مذمت

تہران : ایرانی حکومت کی جانب سے مظاہرین کو ڈرانے دھمکانے اور دوران حراست تشدد کے ذریعے اعتراف جرم کرانے کے بعد انہیں کڑی سزائیں سنانے کا سلسلہ جاری ہے۔ایرانی عدلیہ نے اپنے ایک حالیہ فیصلے میں مزید تین ایرانیوں کو سزائے موت سنائی ہے۔

سزائے موت پانے والے تینوں شہریوں کے کیس کو’بیت اصفہان‘ کا نام دیا گیا ہے اور اس کیس میں صالح میر ہاشمی، ماجد یعقوبی اور سعید کاظمی کو سزائے موت سنائی گئی۔امیر نصر آزادانی کو بھی “بیت اصفہان ” کیس میں چوتھے ملزم کے طور پر 26 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی اور سابق فٹ بال کھلاڑی پر “ملکی سلامتی کونقصان پہنچانے اور غیر قانونی اجتماعات میں شمولیت کا الزام لگایا گیا تھا۔

36 سالہ کراٹے چیمپیئن اور باڈی بلڈر صالح میر ہاشمی نے گرفتاری سے چند ماہ قبل شادی کی تھی۔ 30 سالہ ماجد کاظمی کو 21 نومبر کو گرفتار کیا گیا تھا۔ عدالت نے انہیں وکیل کا انتخاب کرنے سے روک دیا۔ انہیں تشدد کرکے اقبال جرم پر مجبور کیا گیا۔

سزائے موت پانے والے تیسرے مزلم 37 سالہ سعید یعقوبی اپنے 80 سالہ والدین کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔ انہیں 18 نومبر کو گرفتار کیا گیا تھا۔

ٹریکٹر فٹ بال کلب کے سابق کھلاڑی عامر نصر آزادانی “اصفہان ہاؤس” کیس کے مشہور ترین ملزم ہیں، انہیں 26 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ان مظاہرین جن کی عمریں 40 سال سے کم ہیں کا عدالتوں کے بند کمروں میں ٹرائل کیا گیا اور ان کے بارے میں کوئی معلومات جاری نہیں کی گئیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: