ٹرن آئوٹ 8 فیصد : اندرون سندھ پی پی کاکلین سویپ،کراچی کے نتائج تاخیر کا شکار

کراچی،حیدر آباد: سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کیلئے گزشتہ روز پولنگ ہوئی،شہرقائد کے نتائج رات گئے تاخیر کا شکار ہوگئے،سیاسی جماعتوں نے کراچی میں کامیابی کے متضاد دعوے کردیئے۔ تحریک انصاف نے کراچی کی 50یوسیز میں کامیابی کادعویٰ کردیا۔پیپلزپارٹی نے اندرون سندھ جھاڑوپھیردیااور16میں سے 9اضلاع میں کلین سویپ کردیا۔

حیدرآباد،دادو،سجاول،مٹیاری،ٹنڈومحمدخان،ٹھٹھہ،جامشورو،بدین،ٹنڈوالہ یارمیں کامیاب ہوگئی۔ٹھٹھہ میں تمام 9،بدین میں 14میں سے 12نشستیں جیت لیں۔سیہون شریف میں تمام 15،دادومیں 23میں 18نشستوں پرپیپلزپارٹی کے امیدوارکامیاب ہوگئے۔پیپلزپارٹی سجاول میں 11میں سے 9،حیدرآبادکی 160میں سے 49نشستیں جیت چکی۔پی ٹی آئی 12سیٹوں کیساتھ دوسرے نمبرپرہے،ایک ایک سیٹ آزادامیدواراورجماعت اسلامی نے جیتی۔ٹنڈومحمدخان کی 8یونین کمیٹیوں پرپیپلزپارٹی جیت گئی،ٹائون کمیٹی ٹنڈوغلام حیدرمیں بھی کلین سویپ کردیا،ساتوں وارڈزپرجیالے کونسلرزبن گئے۔جامشورومیں بھی پیپلزپارٹی نے بڑی کامیابی سمیٹی،42یوسیزاپنے نام کرلیں،آزادامیدوارصرف دونشستیں جیت سکے۔

میونسپل کمیٹی میہڑ میں پی ٹی آئی نے 9 نشستیں اپنے نام کرلیں، پی پی 4 نشستیں حاصل کرسکی۔ پی پی (شہید بھٹوگروپ) بھی ایک سیٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی۔خیرپور میں ناتھن شاہ میونسپل کمیٹی کے 11وارڈزمیں سے 9 پر پیپلزپارٹی جبکہ 2پر پی ٹی آئی امیدوار کامیاب ہوگئے۔کراچی میں بھی کانٹے کامقابلہ ہوا،ضلع ملیراورکیماڑی میں پیپلزپارٹی کی پوزیشن مستحکم ہے،کورنگی میں جماعت اسلامی ،پی ٹی آئی،ٹی ایل پی اورن لیگ کے امیدواروں کی برتری تھی،ضلع جنوبی میں جماعت اسلامی،پیپلزپارٹی اورپی ٹی آئی میں کانٹے کامقابلہ ہوا،آخری اطلاعات تک کراچی کی 1200میں سے بیشترنشستوں کے مکمل نتائج رات دیر گئے تک مرتب نہ ہوپائے۔ضلع غربی،شرقی،وسطی میں انتخابی نتائج تاخیرکاشکارہوگئے۔

ضلع ملیرکی یوسی 7میں پیپلزپارٹی کے سلمان عبداللہ مرادوائس چیئرمین کی نشست پر کامیاب ہوگئے۔جماعت اسلامی کے حافظ نعیم الرحمان یوسی 8نارتھ ناظم آبادمیں جیت فئے،ضلع شرقی کی یوسی 2میں پی ٹی آئی کے فردوس شمیم نقوی کوبرتری تھی،پیپلزپارٹی کے خرم شیرزمان پیپلزپارٹی کے نجمی عالم سے ہارگئے۔کامیاب امیدواروں کے حامیوں نے جیت کابھرپورجشن منایا،ڈھول کی تھاپ پربھنگڑے ڈالے،مٹھائیاں تقسیم کیں۔ پولنگ بغیر وقفہ صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک جاری رہی، شام پانچ بجے تک پولنگ سٹیشنز کے احاطے میں موجود ووٹرز کو ووٹ ڈالنے کا حق دیا گیا۔

ٹرن آؤٹ توقع سے انتہائی کم رہا،سیاسی جماعتوں کے مطابق ٹرن اوور 8 سے 9 فیصد رہا۔ سخت سردی کے باعث صبح کو ووٹرز کی تعداد کم تھی تاہم دوپہرکوکئی پولنگ سٹیشنوں پرلمبی لائنیں لگی رہیں۔

پولنگ کے دوران 65ہزارپولیس اہلکارتعینات کئے گئے، رینجرز کو بھی بطور کوئیک رسپانس فورس تعینات کیا گیا۔پولنگ کیلئے 8706 پولنگ سٹیشن قائم کئے گئے تھے۔کراچی ڈویژن کے7 اضلاع میں84 لاکھ 5 ہزار 475 ووٹرزکے حق رائے دہی کیلئے 4990 پولنگ سٹیشنزقائم کئے گئے،کراچی ڈویژن میں 9 ہزار 58 امیدوارمدمقابل تھے۔

کراچی سے چیئرمین اور وائس چیئرمین کے پینل اور جنرل ممبر کی نشست پر مختلف یونین کمیٹیوں سے 7 امیدواربلا مقابلہ منتخب ہوچکے جبکہ کراچی ڈویژن کے جنرل ممبرز ، چیئرمین اور وائس چیئرمین کی 22 نشستوں پر امیدواروں کے انتقال کے باعث انتخابات نہیں ہوئے۔ بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں مجموعی طور پر 34 لاکھ سے زائدووٹرزتھے۔حیدرآباد میں2551، دادو1436، جامشورو میں 839، ٹنڈوالہیار میں 781، مٹیاری میں 715 اور ٹنڈومحمد خان میں 452 امیدواروں نے مختلف نشستوں پر الیکشن میں حصہ لیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: