پختونخوا اسمبلی توڑنے کی سمری گورنر کو بھیج دی گئی

پشاور:وزیراعلیٰ محمو دخان نے خیبرپختونخوااسمبلی تحلیل کرنے کی سمری پردستخط کردیئے،وزیراعلی ٰنے خیبرپختونخوااسمبلی تحلیل کرنے کی ایڈوائس گورنرکوبھیج دی،سمری پر رات 9بجے کاوقت درج ہے۔گورنر48گھنٹے میں سمری پردستخط کرنے کے پابند ہیں،گورنرکے دستخط نہ کرنے کی صورت میں 48گھنٹے بعد (جمعرات کو)اسمبلی از خودتحلیل ہوجائیگی جبکہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اکرم خان درانی نے الزام عائد کیا ہے کہ وزیراعلیٰ محمود خان نے اسمبلی کی تحلیل روکنے کیلئے اہم شخصیت کے ذریعے رابطہ کیا ہے، وہ چاہتے ہیں کہ میرے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرکے اسمبلی کی تحلیل کو روکا جائے لیکن ہم ایسا ہر گز نہیں کر یں گے ، چاہتے ہیں کہ نااہل حکومت سے عوام کو چھٹکارا مل جائے۔

وزیراعلیٰ اور ان کے وزرا امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث خود بھتہ دے رہے ہیں، وزیراعلیٰ محمود خان نے چار سال سے زائد عرصہ کے دوران صرف 2مرتبہ میرے ساتھ رابطہ کیا ،نگران حکومت کے قیام کیلئے موجودہ حکومت نے کسی قسم کا رابطہ تاحال نہیں کیا، وزیراعلیٰ میں خود اتنی اخلاقی جرات نہیں کہ وہ نگران حکومت کیلئے مجھ سے رابطہ کریں، میں کسی بھی صورت محمود خان کے ساتھ مشاورت کیلئے وزیراعلیٰ ہائوس جانے کیلئے تیار نہیں، اگر ضروری ہوا تو نگران حکومت کے قیام کیلئے اسپیکر ہائوس یا دوسری جگہ پر ملاقات ہوسکتی ہے، نگران وزیراعلیٰ کیلئے اپوزیشن کی تمام جماعتوں کے ساتھ مکمل مشاورت کے بعد ہی نام فائنل کئے جائیں گے۔

ن لیگ کے رکن اسمبلی اختیار ولی نے بھی یہی الزام عائد کیا ہے کہ حکومت اسمبلی تحلیل کا راستہ روکنا چاہتی ہے ، اپوزیشن لیڈر کے بیان پر وزیر اعلیٰ نے بھی رد عمل دیا ہے کہ وہ 23دسمبر کو اسمبلی تحلیل کررہا تھا لیکن عمران خان نے روکے رکھا، اس شخص کا نام بتایا جائے جس نے اکرم درانی یا کسی بھی اپوزیشن لیڈر کے ساتھ میرے کہنے پر رابطہ کیا ہے، اپوزیشن اب پروپیگنڈ ا کرنے پر اتر آئی ہے اب مقابلہ میدان میں ہی ہوگا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: