میئر کراچی کون ہوگا؟ کچھ لو کچھ دو کی پالیسی پر سیاسی جوڑ توڑ جاری

کراچی : میئر اور ڈپٹی میئر کیلئے سیاسی جماعتوں میں رابطے جاری ہیں، پیپلز پارٹی میں کسی بڑے بحران سے بچنے کے لئے حافظ نعیم کو میئر کے طور پر قبول کرنے کے سلسلے میں مشاورت تیز ہوگئی ہے تاہم پارٹی قیادت نے فی الحال اس کی توثیق نہیں کی ہے۔

پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی نے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔کراچی اور حیدرآباد سمیت سندھ کے کئی علاقوں میں 15 جنوری کو بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں ووٹنگ ہوگئی، شہر قائد میں پاکستان پیپلزپارٹی 90 نشستوں کے ساتھ ٹاپ پر ہے جبکہ جماعت اسلامی کی 86 اور پی ٹی آئی کی 42 نشستیں ہیں۔

میئر کراچی کیلئے کسی بھی جماعت کے سادہ اکثریت موجود نہیں، جس کیلئے سیاسی جوڑ توڑ کا عمل جاری ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کے ایک سے زائد دور ہوچکے ہیں جبکہ دونوں جماعتوں نے رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ جماعت اسلامی نے سندھ کی حکمراں جماعت سے تحفظات دور کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب تحریک انصاف نے بھی جماعت اسلامی کے ساتھ مذاکرات کو حتمی شکل دینے کی تیاری کر لی ہے اور امکان ہے اس سلسلے عمران خان خود سراج الحق سے براہ راست رابطہ کرینگے ۔

کچھ لو اور کچھ دو کی پالیسی کے تحت امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جماعت اسلامی اور پیپلزپارٹی کراچی کی مخلوط بلدیاتی حکومت کے قیام میں ساتھ بیٹھ جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: