کراچی میں سرسید تھانے کی حدود میں 20 جنوری کو پولیس مقابلے کے بعد گرفتار کیے گئے ملزمان نے ڈسٹرکٹ ویسٹ میں 200 سے زائد، ایسٹ میں 25 سے زائد، کورنگی میں 50 سے زائد، سرجانی ٹاؤن کے یوسف گوٹھ میں 100 سے زائد وارداتوں کا اعتراف کیا ہے۔ملزمان نے بڑے تاجروں کو بھی لوٹنے سمیت کئی سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔
ایس ایس پی سینٹرل معروف عثمان کے مطابق سرسید پولیس نے مقابلے کے بعد ملزمان رحمٰن عرف سونو، اسامہ عرف ڈھولا، ندیم عرف ڈان اور ولید عرف خوف کو گرفتار کیا تھا۔
ایس ایس پی سینٹرل نے بتایا ہے کہ ملزمان کی نشاندہی پر 100 سے زائد چھینے ہوئے موبائل فون، 100 سے زائد چھینے ہوئے پرس، شناختی کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس، پاسپورٹس، موٹر سائیکل کے کاغذات اور اے ٹی ایم کارڈ برآمد کر لیے گئے ہیں۔ ملزم رحمٰن عرف سونو گروہ کا سرغنہ ہے جبکہ گروہ میں 12 سے زائد ملزمان شامل ہیں جو صبح سے لے کر 12 بجے تک تاجروں، سبزی منڈی آنے جانے والے بیوپاریوں اور دکانداروں کو ٹارگٹ کر کے واردات کرتے تھے۔ ملزمان وارداتوں کے دوران حلیہ بدلتے تھے اور گرفتاری سے بچنے کے لیے پولیس کیپ اور جیکٹ پہن کر واردات کرنے نکلتے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ ملزمان کراچی، حیدر آباد، ٹنڈو آدم سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں واردات کرتے اور ٹنڈوآدم میں روپوش ہو جاتے تھے۔
