نقیب اللہ قتل کیس، راؤ انوار کو بری کرنے کی تیاری، پیپلزپارٹی بے گناہ کا بیانیہ لائے گی، جبران ناصر

نقیب اللہ قتل میں اہل خانہ کے وکیل ایڈوکیٹ جبران ناصر نے کہا ہے کہ راؤ انوار کو بری کرنے کی تیاری کی جارہی ہے اور اُس کی رہائی کے بعد پیپلزپارٹی ایک بیانیہ لائے گی کہ دیکھا راؤ انوار پر 440 جعلی مقابلوں کے لگنے والے الزامات جھوٹے اور بے بنیاد نکلے۔

کراچی پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جبران ناصر نے کہا کہ نقیب اللہ کے لواحقین کے ساتھ یہاں موجود ہوں، گرینڈ جرگہ کے عمائدین یہاں ساتھ موجود ہیں، راو انوار اور انکی ٹیم نے جو سہراب گوٹھ میں کام کرے انکے خلاف آواز اٹھاتے رہے، کل پیر کو انسدادِ دہشتگردی کی عدالت میں اس کیس کا فیصلہ سنایا جائیگا۔

انہوں نے کہا کہ 18 کے قریب پولیس اہلکار اس کیس میں نامزد ہیں، جن میں راو انوار اور انکے اہلکار موجود ہیں اور ان میں سے 7 مفرور ہیں، ان افسران اور اہلکاروں پر اغواء ، غیر قانونی طور پر گرفتاری، اور قتل کی دفعات شامل ہیں، اس کیس کے 5 اہم عینی شاہدین مکر گئے۔

جبران ناصر نے کہا کہ راؤ انوار کا اس کیس میں بری ہونا صرف اس کیس سے بری ہونا نہیں ہے، راو انوار کو اس کیس سے بری کرنے کی تیاری ہے، اس شہر میں سینکڑوں قتل کرنے کے بعد اتنے شواہد ہونے کے باوجود کیس سے بری کرنے کی تیاری ہے، اس شہر میں شاہ رخ جتوئی بھی بری ہوا ، ناظم جوکھیو کیس میں نامزد ایم پی اے جام اویس کو بری کردیا گیا جام کریم کو اہم کردیا گیا، اس شہر میں موجود زخم کسی سے چھپے نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس ملک کے ادارے عدالت ، خفیہ ادارے اپنے اوپر سے اعتبار ختم کرتے جارہے ہیں، راؤ انوار کے اعلی گھر کو سب جیل بنادیا گیا، نیب آج تک ایک ریفرنس دائر نہ کر سکی،  کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے لاڈلے ہیں؟ وہ بہادر بچے ہیں، وہ ملک ریاض، اعلیٰ پولیس افسران اور حساس ادارے کے لاڈلے ہیں۔

جبران ناصر کا کہنا تھا کہ آصف زرداری نے قبل کیا کہ وہ انکے بہادر بچے ہیں، فیک انٹریز جو ڈی ایس پی قمر ںے بنائی وہ گھم کردی گئیں، اپیل سے پہلے ہی فیصلہ محفوظ کرلیا گیا، اس کیس میں جن کے اوپر شروع میں سیاسی طور پر نشانہ بنایا گیا وہ ایس ایس پی ڈاکٹر رضوان ہے، سب سے اہم ملزم امان اللہ مروت اب تک نہیں پکڑا گیا، عدالت نے فیصلہ شواہد کی بنیاد پر کیا گیا۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ عدالت شاید راو انوار کو بریت دے دے، اگر ایسا ہوا تو ہم ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تک جائنگے، عدالتوں نے اپنا امتحان دینا ہے، نقیب اللہ کیس کے لواحقین اس کیس کو چھوڑں گی نہیں، اس کیس کی پیروی کرتے رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ میرے ساتھ کراچی گرینڈ جرگہ کے عمائدین بھی موجود ہیں، راؤ انوار کے ظلم کے خلاف ان لوگوں نے پہلے روز سے آواز اٹھائی،ملزمان پر اغواء، غیر قانونی حراست، غیر قانونی اسلحہ اور بارودی مواد رکھنا اور قتل کی دفعات شامل ہے، ملزمان پر کیس کے شواہد ضائع کرنے کا الزام بھی ہے، کیس میں پولیس کے گواہی اپنے بیان سے مکرے، سینکڑوں قتل کرنے والے کے خلاف شواہد موجود ہیں پھر بھی بری کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ راؤ انوار کو اتنی سہولتیں کیوں حاصل ہے وہ ایک روز بھی جیل نہیں گیا اس کے گھر کو جیل بنایا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: