پارٹی نہیں چلا سکتا، امریکا جانا چاہتا ہوں، فاروق ستار دل برداشتہ ہوگئے

کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے حادثاتی طور پر سربراہ بننے والے ڈاکٹر فاروق ستار پارٹی چلانے میں ناکام ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق 22 اگست کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے باعث متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کو بانی قائد اور لندن کمیٹی سے علیحدہ کرنے والی قیادت اور اُن کے سربراہ زمینی حقائق سے خفا ہیں۔

سربراہ ایم کیو ایم پاکستان اور پارٹی کے ڈپٹی کنونیئر عامر خان کی پالیسیوں سے دل برداشتہ ہوکر کئی اراکین رابطہ کمیٹی نے لندن سیکریٹریٹ سے رابطے بحال کرلیے جبکہ چند رکن قومی اسمبلی حالات کی کروٹ کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔

ایم کیو ایم پاکستان کی پوری قیادت میں سے صرف 5 اراکان فاروق ستار کے ساتھ کھڑے ہیں جبکہ 7 کے قریب افراد عامر خان گروپ کا حصہ ہیں۔

اس تمام صورتحال کے پیش نظر ایک روز قبل ہونے والی مٹینگ میں ڈاکٹر فاروق ستار نے دل برداشتہ ہوتے ہوئے عامر خان سے رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں کہا کہ پارٹی چلانا میرے بس کی بات نہیں اب امریکا جا کر غیر سیاسی زندگی گزارنا چاہتا ہوں۔

دوسری جانب ایم کیو ایم سی ای سی کے ایک ذمہ دار نے اس بات کا اعتراف کیا کہ کراچی کی سطح پر تنظیمی دورے کرتے وقت اراکین خوفزدہ ہوتے ہیں کیونکہ اکثر مقامات پر کارکنان بہت تلخ سوالات اور تحفظات کا اظہار کرتے ہیں۔

یاد رہے گزشتہ ماہ ایم کیو ایم کی جانب سے کراچی حقوق ریلی منتعقد کی گئی تھی جس میں عامر خان نے اعتراف کیا تھا کہ اُن کے اور فاروق ستار کے درمیان کوئی اختلاف نہیں تاہم اس ریلی میں دونوں رہنماؤں نے علیحدہ علیحدہ سفر کیا، عامر خان کی گاڑی میں سوائے فاروق ستار کے ساری پارٹی قیادت موجود تھی۔

واضح رہے عامر خان اے آر وائی کے پروگرام الیونتھ آر میں اس بات کا اعتراف کرچکے ہیں کہ 22 اگست کو  نعرے لگنے کے فوری بعد وہ پریس کلب سے سیدھے رینجرز ہیڈ کوارٹر روانہ ہوئے تھے بعد ازاں وہاں پر خواجہ اظہار اور فاروق ستار کو لایا گیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: