الیکشن کمیشن : دیگرسیاسی جماعتوں کی اسکروٹنی پر پی ٹی آئی کے اعتراضات مسترد

اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت فارن فنڈنگ سے متعلق کیس میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور جے یو آئی (ف) کے فنڈز کی اسکروٹنی کی 165 صفحات پر مشتمل پیش رفت رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی۔

رپورٹ میں الیکشن کمیشن کی جانب سے اسکروٹنی تاخیر پر پی ٹی آئی کے اعتراضات مستردکرتے ہوئے بار بار وکلاء کی تبدیلی، التوا کی درخواستیں، اسکروٹنی ممبران کی عدم دستیابی تاخیر کی اہم وجہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سکروٹنی کمیٹی کے ممبران کی تبدیلی بھی تاخیر کی ایک وجہ بنی، ایک کمیٹی ممبر کورس کے لئے گیا، نئے ممبر کی تعیناتی میں چار ماہ لگ گئے، 13 دسمبر 2021ء کو ڈپٹی آڈیٹر جنرل مسعود اختر کی ریٹائرمنٹ کی وجہ سے بھی کمیٹی غیر فعال ہوئی، کورونا کی وجہ سے کمیٹی کی کارروائی روکنا پڑی، کمیٹی ممبر منظور اے ملک 16جولائی سے 17ستمبر 2021ءتک اوپن ہارٹ سرجری کی وجہ سے چھٹیوں پر تھے ۔

منظور اے ملک 24 اکتوبر 2022ءسے 17 نومبر 2022ء تک عمرے کے لئے چھٹیوں پر تھے، کمیٹی ممبر خرم رضا قریشی کی طویل رخصت کے باعث حسنات ملک کو کمیٹی کا ممبر تعینات کیا گیا، بغیر کسی امتیازی سلوک کے تمام سیاسی جماعتوں کو لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم کیا جا رہا ہے ،31 جولائی 2018ءسے 16جنوری 2023ءتک اسکروٹنی کمیٹی کے کئی اجلاس ہوئے، کوئی سیاسی جماعت یہ نہیں کہہ سکتی کہ صرف اس کی اسکروٹنی ہو رہی ہے، درخواست گزار کے تحفظات بے بنیاد اور حقائق کے برعکس ہیں۔

عامر کیانی کی درخواست پر 19 سیاسی جماعتوں کے فنڈز کی سکروٹنی کی کارروائی کو بھی رپورٹ کا حصہ بنایا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: