باجوہ اختیارات کا منبع تھے ، قوم فیصلہ کن تحریک کی تیاری کرلے ، عمران خان

لاہور،اسلام آباد: چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہاہے ملک اُس وقت تک خوشحال نہیں ہوسکتا جب تک قانون کی حکمرانی نہ ہو، اب ہماری ساری امیدیں صرف عدلیہ سے ہیں اور قوم اپنے بہتر مستقبل کیلیے عدلیہ کے ساتھ کھڑی ہے،آئین کی حفاظت کیلئے قوم عدلیہ کی طرف دیکھ رہی ہے، اپنی عدلیہ کو قوم کی طرف سے خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

عمران خان نے مزید کہا کہ مجھے اقتدار میں آنے سے روکنے کی کوششیں کی جارہی ہیں، قوم کو کہتاہوں تیاری کرلیں یہ لوگ پھر عدلیہ پر دباؤ ڈالیں گے۔خوشحال ممالک میں صرف قانون کی حکمرانی ہوتی ہے، عدالتوں کا کام کمزور اور طاقتور کے ساتھ یکساں سلوک کرنا ہوتا ہے،قوم تیاری کرلے، یہ لوگ پھر عدلیہ پر دباؤ ڈالیں گے،میری حکومت ختم کرنے میں امریکہ کا ہاتھ نہیں،مجھے نکالنے کا منصوبہ امریکہ سے نہیں پاکستان سے امریکہ گیا تھا،اب جیسے جیسے معاملات سامنے آرہے ہیں، اس کے مطابق بدقسمتی سے جنرل(ر)باجوہ امریکیوں کوسمجھانے میں کامیاب ہوگئے تھے کہ میں امریکہ مخالف ہوں، جنرل باجوہ کے شہباز شریف کے ساتھ قریبی تعلقات تھے جن کے نتیجے میں رجیم چینج آپریشن کیلئے راہ ہموار اور حکومت تبدیل ہوئی۔

انہوں نے کہاکہ سائفرایک حقیقت ہے جس میں ایک باضابطہ میٹنگ کا احوال لکھا گیا تھا لیکن اب یہ ماضی کی بات ہے، ہمیں آگے بڑھنا ہوگا، امریکہ سے اچھے تعلقات پاکستان کے مفاد میں ہیں اور ہم یہی چاہتے ہیں ،بین الاقوامی تعلقات کی بنیاد رہنمائوں کی ذاتی انا کے بجائے لوگوں کے مفاد پر ہونی چاہئے، امریکہ ہمارا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔

وائس آف امریکہ کوانٹرویواور قوم سے ویڈیو لنک خطاب میں عمران خان نے کہا پاکستان میں فوج کا مطلب ایک آدمی ہے اور وہ آرمی چیف ہے،سویلین حکومت کے ساتھ معاملات کے حوالے سے فوج کی ساری پالیسی اسی ایک انسان کی شخصیت پر منحصر ہے، جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کے ساتھ ہمارے تعلقات کے دوران مثبت پہلو یہ تھاکہ ہم ایک پیج پر تھے جس کا مطلب یہ تھا کہ ہمارے پاس مدد کے لیے پاک فوج کی منظم طاقت تھی اور ہم نے مل کر کام کیا،حکومت اور عسکری ادارے کی مشترکہ کوششوں سے کورونا کا بہترین انداز میں مقابلہ کیا، جنرل باجوہ اور ہمارے درمیان مسائل تب پیدا ہوئے جب انہوں نے ملک کے چند بڑے مجرموں کی حمایت کی،وہ کرپشن کو کوئی بڑا مسئلہ نہیں سمجھتے اورچاہتے تھے ہم ان چوروں کی کرپشن معاف کر کے ان کے ساتھ مل کر کام کریں، وہ چاہتے تھے انہیں بدعنوانی کے مقدمات سے استثنی دیا جائے۔

عمران نے مزید کہاکہ ہماری حکومت میں سابق آرمی چیف سپرکنگ اور سارے فیصلے کرتا تھا، جب ایک آدمی کے پاس اتنی طاقت آجائے تو خرابیاں پیدا ہوتی ہیں، ہماری حکومت کا فیصلہ اُس وقت تک ہوتا تھا جب تک باجوہ کوئی فیصلہ نہ کرے، باجوہ نے احتساب نہ ہونے کا فیصلہ کیا اور پھر کسی کا احتساب نہیں ہوا، جب باجوہ نے شہباز شریف کا احتساب نہ کرنے کا فیصلہ کیا تو نہیں ہوا، کبھی جج نہیں آتا، کبھی شہباز شریف کی طبیعت خراب ہوجاتی تھی،

عمران نے کہاکہ آپ ذمہ داری اور اختیار الگ الگ نہیں کر سکتے، اگر اختیار آرمی چیف کے پاس ہے اور ذمہ دار وزیر اعظم ہو تو پھر نظام کام نہیں کرتا۔موجودہ الیکشن کمیشن نے ادارے کی غیر جانبدارانہ ساکھ مکمل طور پر تباہ کر دی ہے، اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ ملک میں انتخابات تو ہوں گے لیکن آزادانہ اور منصفانہ نہیں ہوں گے، انتخابات ہارنے کی صورت میں نتائج تسلیم کرنے یا نہ کرنے کا سوال قبل ازوقت ہے، ابھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ کس حد تک دھاندلی کریں گے، سندھ میں بلدیاتی الیکشن ہوا، تمام سیاسی جماعتوں نے بلدیاتی الیکشن کو مسترد کر دیااس لئے دھاندلی کے پیمانے سے متعلق ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ عمران خان نے کہا افغانستان میں جو بھی حکومت ہو پاکستان کے ان کےساتھ اچھے تعلقات ہونے چاہیئں، میں نے اشرف غنی حکومت کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانے کی پوری کوشش کی کیونکہ ہماری ان کے ساتھ 2500 کلومیٹر طویل سرحد ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: