آئی ایم ایف کی شرط پر گیس کی قیمت میں 124 فیصد اضافہ

کراچی ، اسلام آباد : بآئی ایم ایف کی سخت شرائط پر گیس کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کردیاگیا،مختلف سیکٹرز کے لیے گیس قیمت میں 16.6 سے 124 فیصد تک اضافہ کر دیا گیا

سرکاری دستاویزات کے مطابق 50 کیوبک میٹر تک گیس استعمال کرنے والے گھریلو صارفین فیصلے سے مستثنیٰ ہوں گے،100 کیوبک میٹر گیس استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کے لیے گیس قیمت میں 16.6 فیصد کا اضافہ کیاگیاہے ۔

100 کیوبک میٹر گیس صارفین کے لیے نئی قیمت 300 روپے سے بڑھ کر 350 روپے ایم ایم بی ٹی یو مقرر جبکہ 200 کیو بک میٹر گیس استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کے لیے گیس کی قیمت میں 32 فیصد اضافہ کیاگیاہے۔

200 کیو بک میٹر گیس والے صارفین کے لیے گیس قیمت 553 روپے سے بڑھا کر 730 روپے ایم ایم بی ٹی یو مقرر کردی گئی ہے،300 کیوبک میٹر گیس والے گھریلو صارفین کے لیے گیس 69 فیصد مہنگی ہوگئی ہے۔

300 کیوبک صارفین کے لیے گیس کی قیمت 738 روپے سے بڑھا کر 1250 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کر دی گئی، 400 کیوبک میٹر گیس استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کے لیے 99 فیصد اضافہ ہوگا۔قیمت 1107 روپے سے بڑھا کر 2200 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ہو گئی۔400 کیوبک میٹر سے زائد گیس استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کے لیے 124 فیصد کا اضافہ کیاگیاہے۔
400 کیوبک میٹر گیس صارفین کے لیے قیمت 1460 روپے سے بڑھ کر 3277 روپے فی ایم ایم بی ٹی مقرر، دستاویز

کمرشل صارفین کے لیے گیس کی قیمت 28.6 فیصد اضافہ کیا گیا، کمرشل صارفین کے گیس کی قیمت1283 روپے سے بڑھ کر 1650 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ہو گئی، پاور سیکٹر کے لیے بھی گیس قیمت 22.8 فیصد اضافہ ہواہے۔ نئی قیمت 857 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو سے بڑھا کر 1050 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ہو گئی،

برآمدی صنعت کے لیے گیس 34 فیصد مہنگی، نئی قیمت 819 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو سے بڑھا کر 1100 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کر دی گئی۔سی این جی شعبے کے لیے گیس 31 فیصد مہنگی، نئی قیمت 1370 روپے سے بڑھ کر 1800 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقررکی گئی ہے ۔

کھاد کےشعبے کے لیے گیس کی قیمت 46 فیصد اضافہ ہواہے ،نئی قیمت 1023 روپے بڑھ کر 1500 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ہو گئی۔سیمنٹ سیکٹر کے لیے گیس 17.46 فیصد مہنگی، نئی قیمت 1277 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو سے بڑھا کر 1500 روپے فی ایم ایم بی ٹی مقرر کی گی ہے ۔

نئی قیمتوں کا اطلاق یکم جنوری سے 30 جون 2023 تک نافذ العمل رہے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: