آبادی پرکنٹرول کیلئےعلماعوام میں خاندانی منصوبہ بندی کی آگہی پھیلائیں،صدرمملکت

اسلام آباد: صدر عارف علوی نے تولیدی صحت کے فروغ اور بڑھتی آبادی پر قابو پانے کیلئے خاندانی منصوبہ بندی کے متعلق معاشرتی رویوں میں تبدیلی لانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبادی میں تیزی سے اضافہ قومی وسائل پر زبردست دبائوڈال رہا ہے، علماء، میڈیا اور صائب الرائے افراد خاندانی منصوبہ بندی کی حمایت سے معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے میں مدد کرسکتے ہیں۔

ایوانِ صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت نے اقوام متحدہ کے آبادی فنڈ کے پاکستان میں نمائندہ ڈاکٹر لوئے شبانے سے گفتگو میں کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی کو روکنے کیلئے خاندانی منصوبہ بندی کلیدی ذریعہ ہے، علمائے کرام اور میڈیا کو خاندانی منصوبہ بندی کے بارے میں لوگوں کو آگہی فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمام سٹیک ہولڈرز خاندانی منصوبہ بندی اور بہتر خاندانی صحت کو شادی شدہ جوڑوں کے بنیادی انسانی حقوق کے طور پر فروغ دینے کیلئے مربوط کوششیں کریں۔

انہوں نے کہا کہ خاندانی منصوبہ بندی کی مصنوعات اور خدمات کی طلب پوری کرنے کی ضرورت ہے، انہوں نے عوام کی صحت اور غذائیت بہتر بنانے کیلئے اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ماں اور بچوں کی شرح اموات میں کمی لانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماں کی صحت ، تولیدی صحت، ذہنی و جسمانی کمزوری اور غذائیت کی کمی پر توجہ دینا ہوگی ۔

ڈاکٹر لوئے شبانے نے صدر کو پاکستان میں خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات کے فروغ میں اقوام متحدہ کے آبادی فنڈ کے کردار کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ آبادی فنڈ اہم ادارہ ہے جس نے پاکستان میں اب تک کئےگئے تمام ڈیموگرافک اور ہیلتھ سروے کو مدد فراہم کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آبادی فنڈ اعلیٰ معیار کی خاندانی منصوبہ بندی کی معلومات اور خدمات کی تیز تر فراہمی اور رسائی کیلئے پاکستان کی کوششوں کی حمایت کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کا آبادی فنڈ گزشتہ 50 سالوں سے پاکستان کو تکنیکی اور مالی معاونت فراہم کر رہا ہے۔دریں اثناصدر عارف علوی نے سینیگال کے ساتھ تجارت، معیشت اور تعلیم کے شعبوں میں تعاون کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی مفادات کیلئے دوطرفہ تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔

صدرمملکت نے سینیگال میں پاکستان کی نامزد سفیر صائمہ سید سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان سینیگال کو مغربی افریقی خطے میں ایک اہم ملک سمجھتا ہے جس کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کیلئے ٹھوس کوششیں کی جائیں۔ انہوں نے نامزد سفیر پر زور دیا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان وزارتی سطح پر دو طرفہ تبادلوں کے انتظامات کے لئے کام کریں۔

صدر نے کئی سالوں سے ڈاکار میں ہونے والے تجارتی میلوں ( ڈاکار انٹرنیشنل ٹریڈ فیئر) میں پاکستانی تاجروں کی شرکت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی نمائشوں سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید فروغ دینے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے نامزد سفیر سے کہا کہ وہ دو طرفہ تجارتی حجم کو بڑھانے کیلئے متعلقہ وزارتوں کے ساتھ مل کر مزید تجارتی نمائشوں کا اہتمام کریں۔

صدر نے نامزد سفیر سے کہا کہ وہ بھارت کی اقلیت مخالف اور مسلم دشمن پالیسیوں کے ساتھ ساتھ سات دہائیوں سے زائد عرصے سے مقبوضہ کشمیر کے معصوم لوگوں کے خلاف جاری دہشتگردی کو بھی اجاگر کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: