علی وزیر کی آصف زرداری سے ملاقات کی اصل حقیقت سامنے آگئی

پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی علی وزیر کو ایک روز قبل سینٹرل جیل سے تقریبا ڈھائی سال کے عرصے کے بعد رہا کردیا گیا ہے۔

علی وزیر کو وزارت داخلہ سندھ کی جانب سے جاری حکم نامے کے بعد جیل سے جانے کی اجازت دی گئی، رہائی کے موقع کے اُن کے دوست، پی ٹی ایم کے کارکنان اور وکیل موجود تھے۔

رکن قومی اسمبلی کو جلوس کی صورت میں جیل کے باہر لوگوں نے ریسیو کیا اور پھر پھولوں کی پتیاں نچھاور کر کے نعرے بازی بھی کی۔ بعد ازاں علی وزیر ریلی کی صورت میں سہراب گوٹھ پہنچے جہاں ان کے استقبال کیلیے عوام بڑی تعداد میں موجود تھے۔

یہاں علی وزیر نے شرکا سے پشتو زبان میں خطاب کیا۔

پی ٹی ایم رہنما کی رہائی کے بعد سوشل میڈیا پر ایک تصویر شیئر ہوئی جو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہوگئی۔ اس تصویر میں وہ پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین سے مصافحہ کررہے ہیں جبکہ محسن داوڑ بھی اُن کے ساتھ موجود ہیں۔

تصویر شیئر کرنے والوں نے اسے رہائی سے منسوب کر کے مختلف دعوے کیے اور علی وزیر کی رہائی کو ڈیل کا نتیجہ قرار دیا۔ سوشل میڈیا صارفین میں سے کچھ نے دعویٰ کیا کہ نقیب اللہ کیس کے فیصلے کے بعد راؤ انوار کا معاملہ ٹھنڈا کرنے کیلیے علی وزیر کو رہا کیا گیا۔

عمران ریاض اور اوریا مقبول جان جیسے صحافیوں نے بھی یہی دعویٰ کیا اور تاثر دینے کی کوشش کی کہ علی وزیر رہائی کے فوری بعد آصف سے ملاقات کی۔

تصویر کی حقیقت کیا ہے؟

یہ تصویر 2020 کے اوائل کی ہے جب اسلام آباد میں محسن داوڑ اور علی وزیر نے ملاقات کی تھی، جس کا حال سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

علی وزیر رہائی کے بعد اسلام آباد پہنچ گئے ہیں جہاں اُن کا استقبال منظور پشتین اور کارکنان نے کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: