عائشہ گلالئی کے والدین غداری اور دہشت گردی کے کیس میں‌ باعزت بری

معروف ایکٹویسٹ اور سماجی کارکن عائشہ گلالئی کے والدین کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے غداری اور ریاست مخالف سازش سمیت دہشت گردی کے مقدمے میں باعزت بری کردیا۔

عائشہ گلالئی کے والد پروفیسر اسماعیل اور اُن کی اہلیہ پیرانہ سالی کے خلاف 3 سال قبل دہشت گردی کا پرچہ درج ہوا جس میں انہیں ریاست مخالف سرگرمیوں اور ملک کے ساتھ غداری کا ملزم قرار دیا گیا تھا۔

مقدمہ 7 اے ٹی اے (دہشت گردی) کی دفع کے تحت درج کیا گیا، جس کے بعد پروفیسر اسماعیل کی گرفتاری ہوئی اور پھر وہ ضمانت پر رہا ہوئے۔

عدالت میں یہ مقدمہ تین سال تک زیر سماعت رہا جس کے دوران پروفیسر اسماعیل اور اُن کی اہلیہ پیرانہ سالی 167 بار عدالت میں پیش ہوئے اور ہر بار اپنے اوپر لگنے والے الزامات کو جھوٹا ، بے بنیاد قرار دیا۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت میں استغاثہ ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہی جس کے بعد انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پروفیسر اسماعیل اور اُن کی اہلیہ پر لگنے والے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کیس میں بری کیا اور مقدمہ ختم کردیا۔

پروفیسر اسماعیل کے عدالت سے باعزت بری ہونے پر دائیں بازو سے تعلق رکھنے والوں نے انہیں مبارک باد پیش کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: