ہائیکورٹ, پولیس لاپتہ افراد کی بازیابی میں ناکام

کراچی : سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس نعمت اللہ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے 9 لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں پر آئی جی سندھ، سیکرٹری داخلہ کو لاپتا افراد کیسز خود مانیٹر کرنے کی ہدایت کردی۔

محمد عثمان، ہنی، میر علی حیدر، محمد وسیم سمیت 9 لاپتا افراد کی بازیابی متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی۔

عدالت نے پولیس رپورٹس پر عدم اطمینان کا اظہار کردیا۔

جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو نے ریمارکس دیئے کہ پولیس کی روایتی انداز میں رپورٹس سے مطمئن نہیں۔

متعلقہ ڈی آئی جی اور ایس ایس پیز پیش ہوں، بتایا جائے پولیس لاپتا افراد کو بازیاب کرانے میں کیوں ناکام ہے؟ لاپتا افراد کی بازیابی یقینی بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں۔

شہری کا نام فورتھ شیڈیول میں شامل کرنے سے متعلق درخواست پر سیکریٹری داخلہ، آئی جی سندھ اور دیگر کو 20 فروری تک جواب جمع کرانے کا حکم دیدیا۔

کراچی کے شہری احمد رضا کی درخواست کی سماعت ہوئی، فریقین کی جانب سے جواب جمع نہ کرانے پر عدالت نے اظہار برہمی کیا ۔

پولیس نے درخواست گزار پر من گھڑت الزامات لگا کر 2014 میں فورتھ شیڈول میں ڈال دیا۔

درخواست گزار کے خلاف پولیس نے مختلف اوقات میں جھوٹے مقدمات درج کیئے، درخواست گزار ان الزامات میں انسداد دہشت گرد ی کی خصوصی عدالت اور سیشن عدالت سے بری ہوچکا ہے۔

درخواست گزار کا نام فورتھ شیڈول سے خارج کر دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: