سندھ ہائیکورٹ : پانی کی عدم فراہمی پر واٹربورڈ حکام سے تفصیلات طلب

کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے کراچی کے علاقے چشتی نگر کو پانی کی عدم فراہمی کے خلاف دائر درخواست پر واٹر بورڈ حکام سے پانی کی تقسیم سے متعلق تفصیلات طلب کرلی ہیں ایک ہفتے کے بعد عدالت میں پیمائش کے ساتھ تفصیل پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

جمعرات کو سماعت کے موقع پر ایم ڈی واٹر بورڈ کی جانب سے پانی فراہمی کی تفصیلات پیش کی گئیں،عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کے پاس پانی کی پیمائش کے لیے میٹر لگے ہوئے ہیں۔

واٹر بورڈ حکام نے بتایا کہ میٹر تو نصب نہیں ہیں جسٹس محمود اے خان نے کہا کہ دنیا کے کس ملک میں میٹر کے بغیر بل جاری ہوتے ہیں وکیل واٹر بورڈ نے بتایا کہ ملک کے بڑے شہر اسلام آباد ، لاہور و دیگر شہروں میں بھی ایسا ہی ہے ۔

عدالت نے ریمارکس دئیے کہ پاکستان کے علاوہ دنیا کا کوئی ملک بتائیں ، میں دنیا کا پوچھ رہا ہوں آپ اپنے سیورج نظام کا حال دیکھیں سمندر گواہ ہے اس کا کیا حال کیا ہوا ہے سب کو پتا ہے آپ سمندر کی کتنی سہولت کاری کرتے ہیں ایم ڈی واٹر بورڈ نے بتایا کہ واٹر ٹرنک لائن سے پانی کم آتا ہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ پانی کیوں نہیں مل رہا جسٹس ذوالفقار خان نے کہا کہ پانی تو ہے آدھا سندھ ڈوب گیا اب بھی 25 فیصد سندھ ڈوبا ہوا ہے آپ کے پاس تو پانی کی پیمائش کا نظام ہی نہیں ہے پھر آپ کو کیسے پتہ چلے گا کہاں کتنا پانی دیا گیا ہے واٹر بورڈ حکام نے بتایا کہ ہمیں روزانہ حب ڈیم سے 92 ملین گیلن پانی مل رہا ہے۔

عدالت نے کہا کہ آپ گیلن کے حساب سے پانی لے رہے ہیں لیکن آگے دینے کا آپ کے پاس پیمانہ ہی نہیں آپ کو یہ پتا ہے پانی کتنا ملا لیکن آگے کس کو کتنا ملا یہ پتہ نہیں ہے،ہمارا سادہ سا سوال ہے کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے آئندہ سماعت پر اعداد و شمار نہیں تفصیل بتائیں کہاں کتنا اور کیسے پانی دیا گیا آپ کو پتہ ہی نہیں پانی کہاں جانا ہے۔

جسٹس ذوالفقارنے کہا پھر کیا کریں غاروں میں چلے جائیں وہیں پانی ملے گا ہم پوچھ رہے ہیں آپ دفتر کیسے چلا رہے ہیں عدالت نے واٹر بورڈ حکام سے پانی کی تقسیم سے متعلق تفصیلات طلب کرلیں اور ایک ہفتے کے بعد عدالت میں پیمائش کے ساتھ تفصیل پیش کرنےکا حکم دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: