ہتک عزت کے مقدمے سے حلیم عادل کی بریّت مسترد

کراچی :یڈیشنل سیشن جج جنوبی نے صوبائی وزیر سعید غنی کی اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ کے خلاف ہتک عزت کے مقدمات میں حلیم عادل شیخ کی بریت اور عدالتی حدود کے متعلق دائر درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے حلیم عادل شیخ کی درخواست مسترد کردی۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر مقدمات کے گواہان ، مدعی اور ملزمان کو طلب کرلیا ہے ۔

عدالت میں حلیم عادل شیخ کے وکیل نے دلائل دیتے ھوئے کہا کہ اس عدالت کا دائرہ اختیار نہیں ہے ، یہ عدالت کیس نہیں سن سکتی،سعید غنی کا گھر محمود آباد میں ہے، ٹی وی چینل کا دفتر اس عدالت کی حدود میں نہیں آتا، حلیم عادل شیخ کو اس کیس سے بری کیا جائے ۔

سعید غنی کے وکیل نے کہا کہ میرے مؤکل محمود آباد میں رہتے ہیں،محمود آباد اس عدالت کی حدود میں ہے، عدالت نے تمام فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد ، بریت کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے حلیم عادل شیخ کی بریت کی درخواست مسترد کردی صوبائی وزیر سعید غنی نے حلیم عادل شیخ کے خلاف نجی ٹی پروگرام میں الزامات پر چار مقدمات درج کروائے تھے ۔

حلیم عادل شیخ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ مجھے اس وجہ سے نشانہ بنایا جارہا ہے تاکہ میں سچ نا بولوں رات کو پیٹرول بم عوام پر گرا دیا گیا ہے ہمارے زمانے میں مہنگائی کا رونا رونے والے آج کیوں چپ ہیں،یہ حکومت آئی ایم ایف کے سامنے بھیک مانگ رہی ہے،پٹرول گیس دوائیاں مہنگی ہوچکی ہیں اس حکومت کا مقصد صرف عمران خان کو جیل میں ڈالنا ہے ہمیں عدلیہ پر پورا اعتماد ہے پاکستان کی افواج اور دیگر اداروں کو کس نے اختیار دیا کہ لوگوں کی وڈیو بنائیں ،کالی بھیڑوں کو نکالنے کی ضرورت ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: