لاہور: سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کی مزید تین مبینہ آڈیوز لیک ہوئی ہیں جن میں وہ کرپشن کیس کے ملزم سابق پرنسپل سیکرٹری محمدخاں بھٹی کا کیس جسٹس مظاہر علی نقوی کی عدالت میں لگوانے اور جسٹس مظاہر علی سے ان کے گھر پر ملاقات کرنے کیلئے دبائو ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں۔
پہلی مبینہ آڈیو میں سنا جاسکتا ہے کہ پرویز الٰہی جسٹس مظاہرعلی شاہ سے ان کے گھر پر ملاقات کیلئے اصرار کر رہے ہیں جبکہ جسٹس مظاہر کا کہنا ہے کہ محمد خان یہاں میرے پاس موجود ہے ،ویسے تو یہ آپ کا اپنا گھر ہے لیکن فی الحال آپ کو آنے کی ضرورت نہیں۔ جواب میں پرویز الٰہی کا کہنا تھا وہ بغیر کسی پرٹوکول کے ان کے گھر آرہے ہیں۔
دوسری مبینہ آڈیو میں پرویز الٰہی محمد خان بھٹی کا کیس جسٹس مظاہر علی نقوی کی عدالت میں لگوانے کیلئے جھوجہ نامی شخص سے بات جیت کر رہے ہیں ۔ جھوجہ نے کہا میری بات ہوگئی ، وہ کہتے ہیں کہ محمد خان کا کیس اسلام آباد بھیج دیا جائے گا ۔ پرویز الٰہی تیسری آڈیو میں مبینہ طور پرسپریم کورٹ بار کے صدر عابد زبیری سے بات کررہے ہیں اور انہیں بھی محمد خان کا کیس جسٹس مظاہرعلی نقوی کی عدالت میں لگوانے کا کہہ رہے ہیں۔ پرویز الٰہی کی جانب سے عابد زبیری کو بتایا گیا کہ جھوجہ نامی شخص نے کیس فائل کردیا ہے جس کے جواب میں عابد زبیری کاکہنا تھا کہ وہ جھوجہ سے رابطہ کرکے مزید معلومات لے لیں گے، آڈیو میں عابد زبیری کی جانب سے پرویز الٰہی سے کہا گیا کہ سابق سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کا کیس جس بنچ میں لگا ہوا ہے اس میں بھی جسٹس مظاہر علی شامل ہیں ،جواب میں پرویز الٰہی نے کہا میں دیکھ لوں گا۔
پرویز الٰہی نے مبینہ آڈیو لیک پر اپنا ردعمل میں کہا کہ محمد خان بھٹی کے کیس کیلئے ایک وکیل کے ساتھ گفتگو کو ٹیپ کرکے غلط رنگ دیا گیا، حکومت انتقام میں اندھی ہوچکی، مخالفین کو جیلوں میں ڈالنا چاہتی ہیں، آڈیو میں کوئی غلط بات نہیں کی گئی، ن لیگ کی قیادت عدلیہ کے ادارے کے خلاف منظم مہم چلا رہی ہے، ماڈل ٹاؤن سانحہ کے سرغنہ رانا ثناء اللہ بوکھلائے ہوئے ہیں، سانحہ ماڈل ٹاؤن کے کیس میں ہی کیفر کردار تک پہنچیں گے۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عابد شاہد زبیری نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس گمراہ کن آڈیو کا مقصد عوام میں عدلیہ کے حوالے سے بداعتمادی پیدا کرنا ہے، آڈیو ریکارڈنگ خود ساختہ اور من گھڑت ہے، میری کبھی عدالت عظمیٰ میں زیر التوا کسی مقدمے بابت سابق وزیر اعلیٰ سے ایسی کوئی ٹیلیفونک گفتگو نہیں ہوئی۔
