لڈو اسٹار سے لڑکی کا ’اغوا‘، ’وہ مقدمہ واپس لینے اور نکاح کیلیے برتھ سرٹیفیکٹ مانگ رہے ہیں‘

’وہ تو رات کے وقت اکیلی گیلری میں نہیں جاتی تھی اور واش روم نہیں جاتی تھی تو رات کو تین بجے کیسے گھر سے نکل گئی‘۔ یہ الفاظ اشکباروں آنکھوں اور ممتا کے جذبے کے ساتھ کرنے والی اُن خاتون کے ہیں جن کی صاحبزادی تیرہ فروری کی رات کو اچانک گھر سے بغیر بتائے چلی گئی۔

شہر قائد کے علاقے شاہ فیصل کالونی سے تیرہ سالہ حبیبہ نامی لڑکی اتوار کی شب تین بجے آن لائن گیم پر دوستی کے جھانسے میں آکر گھر سے چلی گئی جس پر اہل خانہ نے واقعے کو ’اغوا‘ قرار دیا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں بلکہ موبائل پر گیم کھیلتے ہوئے دوستی کے ملک بھر میں متعدد واقعات ہوچکے ہیں، جن میں کراچی کی کم عمر لڑکی سمیت دو لڑکیاں شادی کے چکر میں گھروں سے فرار ہوچکی ہیں، جن میں سے ایک اب عدالتی حکم کے بعد اپنے والدین کے ساتھ رہ رہی ہے جبکہ دوسری کو عدالت نے نکاح کی وجہ سے لڑکے کے ساتھ رہنے کی اجازت دے دی ہے۔

کراچی کے علاقے ملیر سے پنجاب جاکر پسند کی شادی کرنے والی بچی نے مجسٹریٹ کے سامنے اعتراف کیا اور پھر اپنے خاوند ظہیر کے ساتھ ویڈیو بھی بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کیا اور بتایا تھا کہ اُس نے اپنی مرضی سے بخوشی نکاح کیا ہے۔

بعد ازاں مغویہ کے والد اس کیس کو پنجاب اور سندھ کی عدالتوں میں لے کر گئے جس کے بعد سندھ ہائی کورٹ نے کم عمری کی وجہ سے نکاح کو کالعدم قرار دیا۔

پنجاب حکومت کی جانب سے نکاح کی کم سے کم عمر 16 سالہ جبکہ سندھ حکومت نے قانون سازی کے بعد نکاح کیلیے کم سے کم عمر 18 سال مقرر کرنے کا قانون منظور کیا ہے۔ اسی باعث قانونی ماہرین اور وکلا سمجھتے ہیں کہ کراچی سے پنجاب لے جاکر نکاح کرنے کی اصل وجہ عمر کا فرق ہے کیونکہ سندھ میں قانون کے مطابق نکاح یا کورٹ میرج کو تسلیم نہیں کیا جاتا۔

کراچی کے علاقے شاہ فیصل کالونی سے لاپتہ ہونے والی حبیبہ کی والدہ نے بتایا ہے کہ اُن کی بیٹی کی آن لائن لڈو گیم ’یلا‘ پر ایک لڑکے عبداللہ سے دوستی ہوئی جس کے بعد اُس نے بیٹی کا رشتہ بھی مانگا۔

Yalla Ludo - Ludo&Domino - Apps on Google Play

واضح رہے کہ بارہ فروری کی رات کراچی کے علاقے شاہ فیصل کالونی سے تیرہ سالہ لڑکی لاپتہ ہوئی ہے جس کے والد کی مدعیت میں ایک روز قبل اغوا کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اُن کی بیٹی کو اغوا کیا گیا اور اب وہ لوگ شادی کروا کے اُسے بیرون ملک بھیجنا چاہتے ہیں۔

لڈو اسٹار یلہ گیم کیا ہے؟

یہ آن لائن گیم میں جو اینڈرائیڈ صارفین کیلیے پلے اسٹور پر دستیاب ہے اور اس کو کھیلنے کے مختلف ضابطے ہیں، گیم ڈاؤن لوڈ کرنے کے بعد پروفائل بنتی ہے اور جیتنے والے کے اکاؤنٹ میں کوائنز جمع ہوتے ہیں۔

دیگر لڈو گیمز کی طرح یہ بھی آن لائن ہے جس میں Random میچ یا کسی دوست کو مدعو کر کے کھیلا جاسکتا ہے جبکہ اس میں زیادہ سے زیادہ چار لوگ گیم کھیل سکتے ہیں۔ یہ ایپلیکیشن اس وجہ سے دیگر سے منفرد ہے کہ اس میں ٹیم پارٹنر آپس میں وائس چیٹ کرسکتے ہیں جبکہ اس سے پہلے والے گیم میں صرف ٹیکسٹ چیٹ کا آپشن تھا۔

Yalla Ludo - Ludo&Domino on the App Store

لاپتہ/اغوا ہونے والی تیرہ سالہ حبیبہ کی والدہ ریمہ نے بتایا کہ ’بیٹی یللا کے نام سے آن لائن لڈو گیم گزشتہ چودہ پندرہ روز سے کھیل رہی تھی، جہاں اُس کی عبداللہ نامی لڑکے سے دوستی ہوئی اور پھر اُس نے بیٹی کو شادی کی پیش کش کی‘۔

’حبیبہ نے عبداللہ کی جانب سے شادی کی پیش کش پر جواب دیا کہ امی سے بات کرو، جس کے اگلے روز لڑکے نے مجھے فون کر کے اپنا تعارف کروایا اور بیٹی کا رشتہ مانگا، مگر میں نے شناسائی نہ ہونے اور کم عمری کی وجہ سے انکار کردیا کیونکہ وہ صرف تیرہ سال کی ہے‘۔

انہوں نے بتایا کہ ’عبداللہ کی کال کے بعد میرے پاس بیرون ملک کے نمبروں سے چار پانچ کالز آئیں، ایک کال سعودی عرب کے نمبر سے آئی، جس میں اُس کال کرنے والے نے خود کو سرکاری افسر ظاہر کر کے بیٹی کا رشتہ مانگا‘۔

ریمہ کہتی ہیں کہ : ’بیٹی کا موڈ گزشتہ پندرہ دن سے کچھ خراب تھا، وہ بہنوں اور مجھ سے کوئی بات نہیں کررہی تھی جس پر ہمیں تشویش بھی تھی، میں نے اُس کو واٹس ایپ پر بات کرتے ہوئے پکڑا جبکہ وہ میرے ہی موبائل سے فون کالز پر باتیں بھی کرتی تھی‘۔

’پھر تیرہ فروری کی رات تین بجے وہ اچانک گھر سے چلی گئی، ہم نے اگلی صبح جب اُس کو گھر میں نہیں پایا تو رشتے داروں پڑوسیوں سے پوچھا مگر سب نے انکار کیا جس کے بعد میں سہراب گوٹھ گئی اور پوچھا تو وہاں موجود ایک شخص نے تصویر دیکھ کر بتایا کہ یہ لڑکی ایک لڑکے کے ساتھ بہاولپور کی گاڑی کا پوچھ رہی تھی‘۔

بیٹی کے مزاج کا بتاتے ہوئے خاتون کی آنکھیں اشکبار ہوئیں اور انہوں نے بتایا کہ ’حبیبہ نے 2 بلیاں پال رکھیں تھیں، ایک بلی اُسے گلی سے زخمی حالت میں ملی تھی جس پر وہ اُسے اٹھا کر گھر لائی اور اپنی جیب خرچ سے علاج کروایا، وہ تو رات کے وقت گیلری اور باتھ روم میں جانے سے بھی ڈرتی تھی تو کیسے بھاگ گئی یہ سمجھ نہیں آرہا‘۔

’بیٹی کے گھر سے جانے کے بعد ہمارا اُس سے واٹس ایپ پر رابطہ ہوا تو ایک لڑکے نے مجھے ’مما‘ کہہ کر مخاطب کیا اور کہا کہ وہ بیٹی کی مدد کررہا ہے، ہمارا اُن سے فون پر رابطہ تھا اور اس دوران چار یا پانچ نمبروں سے کالز آئیں، ایک کال پر مجھے بتایا گیا کہ آُپ بیٹی راولپنڈی میں ہے تو میں نے اُن سے گھر سے نکلنے کے لیے آدھے گھنٹے کا وقت مانگا اور پھر وہ نمبر بند ہوگیا‘۔

Lahore court sends Dua Zehra to women's shelter at her request - Pakistan - DAWN.COM

والدہ نے کہا کہ ’جب سارے نمبر بند ہوگئے تو میں نے اپنے نمبر کا کال ڈیٹا ریکارڈ نکلوایا جس میں ایک نمبر تھا، جس پر بیٹی گزشتہ کئی روز سے ہم سے چھپ کر رات کے وقت کالز اور میسج کررہی تھی تو اس میں ایک نمبر نکلا جس پر رابطہ کیا تو لڑکے نے بتایا کہ ابھی تو حبیبہ میرے پاس نہیں البتہ وہ آ رہی ہے، اس کے بعد کوئی رابطہ نہیں ہوا‘۔

’پھر انہوں نے دو دن گزرنے کے بعد ہمیں کال کر کے بتایا کہ بچی ہمارے پاس پہنچ گئی ہے، آپ اس کا پیدائشی سرٹیفیکٹ اور دیگر کاغذات بھیجیں تاکہ ہم اس کا نکاح کر کے اسے عبداللہ کے ساتھ کویت بھیج دیں جہاں اُس کے والد پولیس میں ملازمت کرتے ہیں اور یہ بھی وہیں جاکر نوکری کرے گا‘۔

لڑکی کی والدہ نے بتایا کہ ’وہ لوگ ہم سے ایف آئی آر واپس لینے کا مطالبہ کررہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ کویت جا کر آپ کی بیٹی بہت خوش رہے گی‘۔

تفتیش پر اطمینان کے حوالے سے حبیبہ نے کہا کہ ’ہمیں جن نمبروں سے کال آئی تھی ہم نے اُن کی لوکیشن اور سم کی معلومات کیلیے اداروں سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ ان نمبروں کا کوئی ڈیٹا موجود نہیں، پولیس کو تین دن پہلے اطلاع دی مگر انہوں نے بھی کوئی اقدامات نہیں کیے البتہ اب وہ کہہ رہے ہیں کہ جلد کوئی پیشرفت ہوگی‘۔

ریمہ نے اپنی بیٹی کے معاملے پر ملیر سے لاہور جانے والی لڑکی سے جوڑتے ہوئے اسے بھی اُسی سلسلے کی کڑی قرار دیا اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ یالا، لوڈو اور آن لائن گیم بند کردیا جائے، بچیاں اغوا ہورہی ہیں اور اس سے ہماری نسلیں خراب ہورہی ہیں‘۔

نم آنکھوں اور ہچکیوں کے ساتھ والدہ نے اپنی بیٹی سے فریاد کی کہ ’تم تو میرے بغیر رہتی نہیں تھیں کیسے چلی گئیں، واپس آجاؤ، میں تمھارے بغیر مرجاؤں گی اور میں نے تین دن سے کچھ نہیں کھایا‘۔

ڑکی کے والد کا ماننا ہے کہ اُن کی بیٹی کو ورغلا کر عبداللہ نے کراچی میں مقیم اپنے رشتہ داروں کی مدد سے اغوا کروایا، جس کے بعد وہ بیٹی کو پنڈی سے کویت لے جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

والد نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اُن کی بیٹی نے فون پر والدین اور گھر والوں سے جب بھی بات کی تو وہ رو رہی تھی اور اپنے کیے پر نادم تھی مگر وہ لوگ اب اُسے چھوڑ نہیں رہے۔ حبیبہ کے والدین نے وزیر اعلی سندھ اور آئی جی سندھ سمیت تمام ارباب اختیارسے مطالبہ کیا ہے ان کی بیٹی کو واپس لانے کے لیے فوری اقدامات اٹھائے جائیں کیونکہ اس معاملے میں تاخیر نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔

Shah Faisal Police Station - V4HW+V8F, Karachi, Karachi City, Sindh, PK - Zaubee

پولیس حکام نے مؤقف دیا کہ ابتدائی تحقیقات میں گھر کے اطراف میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کی گئی جس میں لڑکی کو اپنی مرضی سے جاتے ہوئے دیکھا جارہا ہے اور وہ پھر موٹرسائیکل پر ایک نوجوان کے ساتھ بیٹھ کر روانہ ہوئی۔

تفتیشی افسر نے بتایا کہ وہ لڑکا رات کے وقت گھر کے قریب آکر کھڑا ہوگیا تھا جس کے بعد لڑکی رات 3 بج کر بیس منٹ پر گھر سے نکلی اور کیمرے کو دیکھ کر ہاتھ بھی ہلایا جبکہ لڑکے نے شناخت چھپانے کیلیے ہیلمٹ پہنا ہوا تھا۔ تھانہ شاہ فیصل کے ایس ایچ او محمد علی مروت پُرامید ہیں کہ پولیس جلد اس کیس کے ملزمان کو گرفتار کر کے بچی کو باحفاظت بازیاب کرالے گی۔

 اس حوالے سے تحفظ حقوق نسواں سندھ سے مؤقف لینے کیلیے متعدد بار رابطے کی کوشش کی گئی تاہم اُن سے رابطہ ممکن نہیں ہوسکا۔

(اہل خانہ کی خواہش اور تحفظات پر والدہ یا لڑکی کی تصویر کو اسٹوری میں شامل نہیں کیا گیا‘۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: