فیض کی شاعری پڑھ کر جیل جانے کو دل کرتا:جاوہداختر / فیض میلہ اختتام پذیر

لاہور: تین روزہ فیض فیسٹیول اختتام پذیر ہوگیا۔ممتاز شاعر فیض احمد فیض کی یاد میں سجے ساتویں سالانہ فیض میلے کا اخری روز ادب سے شغف رکھنے والے افراد سمیت شوبز شخصیات نے بھرپور شرکت کی۔

آخری روز 24 سیشنز منعقد کئے گئے جس میں اردو ادب کے فروغ ،پاکستانی سینما میں خواتین کے کردار انٹرٹینمنٹ جیسے موضوعات پر شعرا،ادیبوں اور فنکاروں کے سنگ مکالمے ہوئے شوبز کی دنیا سے ثانیہ سعید، سیمی راحیل، سمعیہ ممتاز اور عمران عباس سمیت مقبول آرٹسٹوں نے شرکت کی۔

بھارتی شاعر اور ادیب جاوید اختر نے عدیل ہاشمی کے ساتھ سجی نشست میں فیض کا کلام سنایا۔شرکا کا کہنا تھا کہ فیض کی شاعری میں نوجوانوں کے لئے سبق ہے۔

ادب کے رسیہ افراد کا کتابوں کے سٹالز پر رش لگا رہا جہاں ملکی اور غیر ملکی مصنفو ں کی کتابیں خصوصی رعایت پر فروخت کی گئیں ۔ نشست سے گفتگو کرتے ہوئے بھارتی شاعر اور نغمہ نگار جاوید اختر نے کہا ہے کہ جیل کوئی خوبصورت جگہ نہیں لیکن فیض کی شاعری پڑھ کر دل کرتا ہے کہ جیل جاؤں ۔ لاہور اور امرتسر کا فاصلہ 30 کلومیٹر ہے لیکن دونوں ملکوں میں لاعلمی حیرت انگیز ہے، لاہور میں بیٹھی لڑکیوں کو نہیں معلوم کہ کچھ پنجابی ہندو بھی ہیں، ایسا ہی وہاں بھی ہے۔

جاوید اختر نے کہا کہ لاہور میں عمدہ لوگ ہیں، یہاں محافل کمال ہوتی ہیں، آئندہ کبھی بلائیں تو ایک ہفتے کے لیے بلائیں، 3 روز میں میرا کام نہیں بنتا۔ پاکستان اور بھارت میں ایسے لوگ ہیں جو امن چاہتے ہیں، عوام کا فرض بنتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ پر پریشر بنائے رکھیں، ہم کوششیں کرتے ہیں لیکن کوئی ایک واقعہ سارے کام پر پانی پھیر دیتا ہے۔

جاوید اختر نے یہ بھی کہا کہ برصغیر کی تاریخ ہزاروں برس پر محیط ہے، پرانی تاریخ کے سبب یہاں کے لوگوں کا شعور بھی زیادہ ہے، وہ محبت محبت ہی نہیں جس میں دوستی نہ ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: