بارکھان واقعہ: قرآن کے واسطے کے باوجود قتل کا سلسلہ کوئی نیا نہیں

اللہ، رسول اور قرآن کا واسطہ دینے کے باوجود قتل کا سلسلہ یا خواتین کی بے توقیری کا سلسلہ کوئی نیا نہیں بلکہ یہ تو 1350 سال سے جاری ہے۔

قتل کرنے والے جاگیردار، وڈیرے، سرمایہ دار اور سردار ہیں جو کوئی اور نہیں بلکہ بظاہر آپ کے نام نہاد مذہبی ساتھی تھے اور ہیں، جن کے اقدام کی واحد وجہ معاش، شہرت میں کمی یا پھر عزت و تکریم کی رٹ چلینج ہونے ہے۔

پہلے اس کا سامنا خوانوادہ رسول کو ہوا، پھر اُن کے ساتھیوں کو واسطہ دینے کے بعد قتل کیا گیا، یہ سلسلہ آگے چلا تو پھر کربلا میں بھی زمین و آسمان اور فرشتوں نے یہ منظر دیکھا۔

سلسلہ یہاں منقطع نہیں ہوا بلکہ تقسیم برصغیر کے وقت بھی ماؤں بہنوں کو قرآن کا واسطہ دینے کے باوجود قتل کیا گیا، جو حاملہ تھیں اُن کے پیٹ چاک کر کے نومولودوں کو نکال کر نیزوں پر ہوا میں لہرایا گیا اور ایک ہی مطالبہ کہ پاکستان کی تحریک سے دستبردار ہو۔

پھر یہ سلسلہ سانحہ پکا قلعہ تک پہنچا جہاں کئی روز تک محاصرے کے بعد خواتین سینے سے قرآن لگا کر نکلیں اور واسطے دے کر پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے مگر اُن پر گولیاں چلائیں گئیں۔

اب یہ سفاکیت سفر طے کرتی ہوئی بلوچستان کے بارکھان پہنچی جہاں ایک بوڑھی خاتون کو نجی عقوبت خانے میں رکھی خاتون کو دو بیٹوں سمیت قتل کر کے لاشیں کنویں میں پھینک دیں۔

ہر دور کے قاتلوں کی سوچ ایک جیسی اور بربریت کی وجہ بھی ایک ہی تھی اور اثر و رسوخ بھی ایک جیسا کہ ثبوت اور شواہد کے باوجود وہ زمانے کے معتبر رہے اور آئندہ بھی رہیں گے مگر میں مطمئن ہوں کہ سزا اور جزا کے روز سارے مظلوم شہدا ایک طرف اور ظالم ایک طرف کھڑے ہوں گے۔


نوٹ: بلاگر اور صارفین کی رائے سے ادارے کی پالیسی کا کوئی تعلق نہیں، نیز کمنٹس / تحاریر لکھنے والے افراد اپنے الفاظ کے مکمل ذمہ دار ہیں۔ نوٹ: بلاگر اور صارفین کی رائے سے ادارے کی پالیسی کا کوئی تعلق نہیں، نیز کمنٹس / تحاریر لکھنے والے افراد اپنے الفاظ کے مکمل ذمہ دار ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: