سانحہ بارکھان، ’لاش نوجوان لڑکی کی ہے، زیادتی کے بعد گولیاں ماری گئیں‘

کوئٹہ: بلوچستان کے علاقے بارکھان کے کنویں سے ملنے والی خاتون کی لاش کا پوسٹ مارٹم کرلیا گیا، جس میں انکشاف ہوا کہ یہ کسی عمر رسیدہ خاتون کی نہیں بلکہ 17 سے 18 سال کی لڑکی کی ہے۔

لاش کو پوسٹ مارٹم کیلیے دھرنے کے مقام سے سول اسپتال منتقل کیا گیا جہاں سرجن عائشہ فیض لاش کا مشاہدہ کیا اور وجہ موت کے تعین کیلیے نمونے بھی حاصل کیے۔

خاتون ڈاکٹر نے پہلا انکشاف کیا کہ خاتون کی لاش گراں ناز کی نہیں بلکہ 17 سے اٹھارہ سال کی نوجوان لڑکی کی ہے، جس کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا اور شناخت چھپانے کیلیے اس پر تیزاب پھینکا گیا۔

ذرائع کے مطابق خاتون کی لاش مبینہ طور پر محمد خان مری کی بیٹی کی ہی ہے جسے زیادتی کے بعد قتل کیا گیا۔

ڈاکٹر عائشہ فیض نے بتایا کہ لڑکی کے جسم پر تشدد کے نشانات بھی پائے گئے جبکہ سر پر تین گولیاں بھی ماری گئیں ہیں اور چہرہ مسخ کرنے کے لیے گردن اور چہرے پر تیزاب ڈالا گیا۔

بارکھان واقعہ، پولیس کا کھیتران کے گھر چھاپہ، ’کابینہ سے برطرف نہیں کیا‘

دوسری جانب بارکھان واقعے میں ملوث صوبائی وزیر عبد الرحمان کیتھران کو گرفتار کرلیا جبکہ بارکھان تھانے میں ایس ایچ او کی مدعیت میں مقدمہ بھی درج کرلیا گیا ہے، جس میں نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔

اُدھر لاشوں کے ساتھ کوئٹہ کے ریڈ زون میں لواحقین کا دھرنا تیسرے روز میں داخل ہوگیا، جہاں اراکین اسمبلی اور قبائلی عمائدین نے پہنچ کر مظاہرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے محمد خان مری کے پانچ بچوں کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: