اٹلی: کشتی کو حادثہ،28 پاکستانیوں سمیت 60 تارکین وطن جاں بحق

روم: اٹلی میں تارکین وطن کی کشتی کو حادثہ میں 28 پاکستانیوں سمیت 43 تارکین جاں بحق ہوگئے۔

پاکستان، افغانستان ، شام اور ایران سے مہاجرین کو لانے والی کشتی چٹانوں سے ٹکرانے کے بعد تباہ ہوئی ۔ 30لاشیں ساحل سے ملیں۔ مجموعی کل 60 لاشیں مل گئیں۔ جاں بحق افراد کی تعداد 100 تک ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ۔

مختلف ممالک سے مہاجرین کو لانے والی کشتی اٹلی میں سخت سمندری موسم کے بعد چٹانوں سے ٹکرانے کے نتیجے میں کم از کم 33 مسافر جاں بحق ہوگئے جبکہ مزید لاپتہ ہیں۔پاکستان، افغانستان اور ایران سے مہاجرین کو لانے والی بحری کشتی سخت سمندری موسم کی وجہ سے چٹانوں سے ٹکرانے کے بعد تباہ ہوگئی ۔اٹلی کے صوبے کروٹون کے ساحل پر 30 افراد کی لاشیں پائی گئی ہیں ۔

10 لاشیں پانی میں تیرتی پائی گئیں۔ممکنہ طور پر اس میں اضافہ ہوگا۔اٹلی کے محکمہ فائر فائٹر نے ٹیلی گرام پر اپنے بیان میں لکھا کہ جاں بحق ہونے والوں میں متعدد افراد مہاجرین ہیں ۔ ایک کمزور کشتی پر 200 کے لگ بھگ افراد سوار تھے ۔ 80 افراد کو بچا لیا گیا۔ تارکین وطن کا جہاز ساحل سے ٹکرا گیا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا جہاز میں سو سے زائد مسافر سوار تھے ۔جاں بحق ہونے والوں میں ایک شیرخوار بچی اور متعدد بچے شامل تھے۔ سمندری راستے سے یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن کے لیے اٹلی ایک اہم لینڈنگ پوائنٹ ہے جہاں وسطی بحیرہ روم کے راستے کو دنیا کے خطرناک ترین راستوں میں شمار کیا جاتا ہے۔تارکین وطن کی بین الاقوامی تنظیم مسنگ مائگرینٹ پراجیکٹ کے مطابق 2014 سے اب تک وسطی بحیرہ روم میں کم از کم 20 ہزار 333 افراد جاں بحق اور لاپتہ ہوچکے ہیں۔

پاکستانیوں کا تعلق گجرات ،کھاریاں،منڈی بہائوالدین سے بتایاجارہا ہے۔ پاکستان میں والدین اپنے بیٹوں کی لاشوں کے منتظر ہیں۔ حادثے کاشکارجہازترکی سے چارروزقبل روانہ ہوا تھا۔ المناک حادثے میں 100سے زائدافرادکے جاں بحق ہونے کاخدشہ ہے،حادثے میں 2کمشن جڑواں بچوں سمیت 20سے زائدبچوں کی ہلاکت کابھی خدشہ ہے۔

حادثے کاشکار60افرادکوزندہ بچالیاگیااور60لاشیں برآمدہوچکیں۔ ترجمان دفتر خارجہ نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ اٹلی کے ساحل پر ڈوبنے والے بحری جہاز میں پاکستانیوں کی ممکنہ موجودگی سے متعلق رپورٹس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ روم میں پاکستانی سفارت خانہ اطالوی حکام سے حقائق معلوم کر رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: