ساکنان شہر کے تحت عالمی مشاعرہ ، گورنر کامران ٹیسوری کی شرکت

کراچی : گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے کہا ہے کہ کسی بھی قوم کا ادب اس کے ماحول اور معاشرتی دکھ سکھ کا سچا ترجمان ہوتا ہے، لطیف سوچ کو اجاگر کرنے میں شاعروں اور ادیبوں نے ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیا ہے،شاعری کا سماج کے ساتھ مضبوط رشتہ ہوتا ہے، اسی لئے ہر زمانے کے شاعر کے کلام میں اس کے ماحول کی جھلک نظر آتی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ساکنان شہر قائد کے زیر اہتمام عالمی مشاعرہ میں شرکت کے دوران کیا۔

تقریب میں پیرزادہ قاسم رضا صدیقی، محمود احمد خان ، حاجی رفیق پردیسی ، معروف شعرائے کرام،کمشنر کراچی، کنوینر ایم کیوایم پاکستان خالد مقبول صدیقی اور سامعین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

گورنر سندھ نے گذشتہ 27 سال سے جاری تابندہ روایت کو اس سال بھی جاری رکھنے پر ساکنان شہر قائد کے منتظمین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ مشاعرہ ہماری تہذیب کی تابندہ و درخشندہ روایت ہے، اردو کے فروغ میں مشاعروں کا بہت بڑا ہاتھ ہے، مشاعروں کی روایت بھی اردو زبان جتنی قدیم ہے، غزل، نظم ، قصیدہ اور مثنوی کے ذریعہ اردو کو فروغ حاصل ہوا ،قومی زبان اردو پاکستان سمیت پورے برصغیر میں کلیدی اہمیت کی حامل اور رابطے کی سب سے بڑی زبان ہے، بابائے قوم نے اس کی اہمیت محسوس کرتے ہوئے اسے پاکستان کی قومی اورسرکاری زبان قرار دیا۔

گورنرسندھ نے کہا کہ میری کوشش ہے کہ نفرتوں کو ختم کرکے لوگوں میں محبتیں بانٹوں ۔ یہ مشاعرہ عالمی سطح پر ملک کا بہتر امیج پیش کرنے کا سبب بنے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: