خود نے تو کہا تھا!! سانحہ پکا قلعہ پر خاموش رہنے والے مہاجر دشمن

گزشتہ برس عزیز آباد میں واقع لال قلعہ گراؤنڈ میں ڈاکٹر فاروق ستار نے سانحہ پکا قلعہ کی تقریب اور قرآن خوانی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ پکا قلعہ، سانحہ حیدرآباد، قصبہ علیگڑھ پر بات نہ کرنے والے مہاجر دشمن ہیں اگر ایسے سانحات پر سب نے آواز بلند نہ کی تو مہاجروں میں احساس محرومی پیدا ہوگا۔

رواں برس سانحہ پکا قلعہ کو گزرے دو روز گز گئے، اس دوران انتظار کرتا رہا کہ کہیں اس اندوہناک سانحے کی مذمت کی جائے کوئی قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کرے یاپھر متاثرین کے مداوے کی بات کی جائے۔

حد تو یہ ہے کہ ایک سال قبل اس سانحے پر نہ بولنے والوں کو ڈاکٹر فاروق ستار مہاجر دشمن قرار دے رہے تھے جبکہ دو سال قبل مصطفیٰ کمال کے بھی اسی طرح کے کلمات تھے اور وہ بھی مہاجروں (اردو کمیونٹی) پر ہونے والے مظالم کی آواز نہ اٹھانے والوں کو مہاجروں کا دشمن قرار دیتے تھے۔

اب صورتحال یہ ہے کہ آشیرباد کے ساتھ مصطفیٰ کمال کو عملی سیاست میں بطور قائد آئے ہوئے ایک سال کا عرصہ گزر گیا جبکہ 9 ماہ کے دوران فاروق ستار بھی متعدد بار دعویٰ کرچکے ہیں کہ مہاجر ووٹ بینک اُن کا تھا اور وہ بکھرا نہیں کیونکہ ملک کے عوام ساتھ رہنے والے نمائندوں کو جانتے ہیں۔

ہماری قوم کی قلیل المدت سوچ تو ہے تاہم نظریاتی سیاسی کارکنان مخالفین اور اپنوں کی ہربات کو ذہن میں اچھی طرح رکھتے ہیں، دوسری بات یہ ہے شہری سندھ کے عوام میں اس قدر سیاسی شعور ہے کہ یہاں چائے کے ہر دوسرے ہوٹل پر ایک بڑا بورڈ آویزاں ہوتا ہے جس پر تحریر ہوتا ہے کہ ’’سیاسی گفتگو سے پرہیز کریں‘‘۔

رواں برس 26 مئی کو سانحہ پکا قلعہ پر صرف ایک ہی سیاسی شخصیت کی جانب سے مذمت اور قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ دیکھنے میں آیا جب کے اُسی ہی شخصیت سے وابستہ لوگوں نے بلاگز، ٹوئٹس اور فیس بک پر سانحے کی تصاویر شیئر کر کے اپنی آواز بلند کیں جنہیں ماضی میں مظالم پر نہ بولنے والوں کو مہاجر دشمن قرار دینے والے شخصیات  اور اُن کے حامیوں نے ملک مخالف قرار دینے کی کوشش کی۔

جبکہ فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال کی جانب سے اس سانحے پر مکمل خاموشی دیکھنے میں آئی، تو اس خاموشی کو عوام وہی سمجھے جو ماضی میں کہاجاتا تھا؟

اپنا تبصرہ بھیجیں: