7 سال پہلے لاپتہ ہونے والا ایم کیو ایم کا کارکن حراستی مرکز میں بھی نہیں، پولیس

کراچی:  سندھ ہائیکورٹ نے ایم کیو ایم کارکن صابر منصوری کی بازیابی سے متعلق درخواست پر پولیس حکام کو گمشدگی سے متعلق رپورٹ جمع کرا دی۔

جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے روبرو ایم کیو ایم کارکن صابر منصوری کی بازیابی سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔

درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ صابر منصوری کو 2016 کو لیاقت آباد ڈاکخانہ سے اٹھایا گیا۔ جے آئی ٹیز اور پولیس تحقیقات میں کچھ برآمد نہیں ہوسکا۔

پولیس حکام نے صابر منصوری کی گمشدگی سے متعلق رپورٹ جمع کرا دی۔ پولیس حکام نے بتایا کہ حراستی مراکز سے رپورٹس موصول ہوچکیں۔

صابر منصوری حراستی مراکز میں نہیں پایا گیا۔ صابر منصوری کے بارے میں اب تک کچھ پتہ نہیں چل سکا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ جدید ڈیوائسز کے ذریعے لاپتہ شخص کا پتہ لگایا جائے۔

جے آئی ٹی اور ٹاسک فورس لاپتہ شخص کی بازیابی کو یقینی بنائیں۔ عدالت نے صابر منصوری کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کا حکم دیدیا۔ عدالت نے کیس کی سماعت 27 مارچ کے لیے ملتوی کردی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: