سندھ کے ہائی رسک اضلاع میں انسداد پولیو مہم کا آغاز

کراچی : وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے 13 سے 19 مارچ تک صوبے کے 16 ہائی رسک اضلاع میں انسداد پولیو مہم کا آغاز وزیراعلیٰ ہاؤس میں دی ایمرجنسی آپریشن سینٹر (ای او سی) کے زیر اہتمام ایک تقریب میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلا کر کیا۔

تقریب میں وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، پارلیمانی سیکرٹری صحت قاسم سومرو، چیف سیکرٹری سہیل راجپوت، کمشنر کراچی اقبال میمن، سیکرٹری صحت ذوالفقار شاہ، عزیز میمن، کوآرڈینیٹر ای او سی پی ای فیاض عباسی اور دیگر نے شرکت کی۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبے کے 16 ہائی رسک اضلاع میں انسداد پولیو مہم شروع کی جارہی ہے جس میں کراچی ڈویژن کے ساتوں اضلاع، لاڑکانہ ڈویژن (تمام پانچ اضلاع)، سکھر ڈویژن (سکھر اور گھوٹکی)، حیدرآباد ڈویژن (مکمل حیدرآباد اور جامشورو جزوی) جس کا مقصد 5 سال سے کم عمر کے 5.6 ملین سے زائد بچوں کو ویکسینیٹ کرانا ہے۔

وزیر صحت نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ کراچی میں 40 ہزار سے زائد پولیو ورکرز اور 2270 کے قریب سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں ۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ دنیا کے دو پولیو ممالک میں سے ایک ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اپریل 2022 سے پولیو کے 20 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور ان تمام کیسز کا تعلق جنوبی کے پی کے سے ہے جبکہ تمام صوبوں سے مثبت ماحولیاتی نمونے بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ سندھ کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے کہ گزشتہ 33 ماہ میں پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پولیو کا آخری کیس 14 جولائی 2020 کو جیکب آباد سے رپورٹ ہوا تھا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈیڑھ سال سے زائد عرصے سے ماحولیاتی نمونوں کی رپورٹ منفی آئی ہے ما سوائے لانڈھی ضلع ملیر سے جہاں اگست 2022 میں مثبت آئی تھی۔

مراد شاہ نے کہا کہ اگر ہم اسی رفتار کے ساتھ چلتے رہے تو ہمیں مزید بہتر نتائج دیکھنے کو ملیں گے ۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پولیو کا کوئی علاج نہیں لیکن ہر مہم کے دوران پولیو کے دو قطروں کے ذریعے اس سے باآسانی چھٹکارا حاصل کیاجا سکتا ہے۔

وزیر صحت ڈاکٹر عذرا نے کہا کہ پولیو کے خاتمے میں ای او سی کی کوششوں کے نتیجے میں 60 فیصدسے زائد ایسے بچے جنہیں پولیو کے قطرے نہیں پلائے جاتے تھے، اُن کی تعداد میں کمی آئی ہے ، کراچی میں خاص طور پر لوگوں نے تعاون کے رویہ کو فروغ دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: