مردم شماری پر اے پی سی ، پیپلزپارٹی نے رابطے شروع کردیے

کراچی: مردم شماری کے معاملے پرتحفظات،پیپلزپارٹی نے کثیر الجماعتی کانفرنس کے لئے سیاسی،دینی اور قومپرست جماعتوں سے رابطے شروع کردیے ہیں۔

پیپلزپارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، اے این پی سندھ کے صدر شاہی سید، مسلم لیگ ن لیگ سندھ کے صدر شاہ محمد شاہ، مسلم لیگ فنکشنل سندھ کے صدر سید صدرالدین شاہ راشدی اور جماعت اسلامی کے حافظ نعیم الرحمان سے فون پر رابطہ کرکے انہیں مردم شماری کے متعلق کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی اورسندھ کے تحفظات پراعتماد میں لیا۔

پیپلز پارٹی سندھ کے سیکریٹری اطلاعات عاجز دھامراہ نے جے یوآئی سندھ کے سیکریٹری جنرل راشد محمود سومرو، قومپرست رہنماؤں ڈاکٹر قادر مگسی، ایاز لطیف پلیجو، صنعان قریشی، سید جلال محمود شاہ، ریاض چانڈیو ،لال جروار سمیت دیگر رہنماوں سےرابطے کیے اورانہیں کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی۔مردم شماری کے معاملے پر کانفرنس میں مسلم لیگ فنکشنل سمیت سول سوسائٹی ادیبوں اور رائٹرز کو بھی شرکت کی دعوت دی جائے گی۔ملٹی پارٹیز کانفرنس جمعے کے روز کراچی کے بیچ لگژری ہوٹل میں شام 4 بجے منعقد ہوگی۔

جماعت اسلامی اور مسلم لیگ فنکشنل کیجانب سے مردم شماری کے متعلق کانفرنس میں شرکت کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

نثارکھوڑو کا کہنا ہے کہ سندھ کو ڈیجیٹل مردم شماری اور غیر قانونی تارکین وطن پر خدشات ہیں کانفرنس میں سیاسی و قومپرست جماعتوں کے مردم شماری کے متعلق نقطہ نظر کی روشنی میں آگے بڑھیں گے۔

نثار کھوڑو کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل مردم شماری میں خامیاں موجود ہیں ٹیبلیٹ ایپ سندھ کے دیہی علاقوں میں کام نہیں کر رہے،شمار ہونے والے گھرانوں کو رسید بھی نہیں دی جارہی تاکہ معلوم ہوسکے کے ان کے کتنے افراد شمار کئے گئے،خدشہ ہے کہ ڈیجیٹل مردم شماری کا آر ٹی ایس جیساحشر ہوگا۔سندھ کی درست آبادی گنی جائے اور غیر قانونی تارکین وطن کو الگ خانے میں رکھا جائے،شناختی کارڈ کوبنیاد بنایا جائے تاکہ معلوم ہوسکے کہ کون پاکستانی ہے کون پاکستانی نہیں سندھ کے لاکھوں سیلاب متاثرین جو گھروں سے محروم ہیں ان تمام لوگوں کو نادرا ڈیٹا کی مدد سے شمار کیا جائے۔سندھ کی درست آبادی نہیں گنی گئی اور سندھ کے خدشات ختم نہیں کئے گئے تو مردم شماری متنازعہ ہو جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: