کراچی : پی ٹی آئی رہنمائوں کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستیں منظور

کراچی: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شرقی کی عدالت نے پی ٹی آئی رہنماؤں عالمگیر خان اور فردوس شمیم نقوی سمیت 6 کارکنوں کی ضمانت قبل از وقت گرفتاری کی درخواست منظور کرلی۔

کراچی سٹی کورٹ میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شرقی کی عدالت کے روبرو پی ٹی آئی رہنماؤں عالمگیر خان اور فردوس شمیم نقوی سمیت 6 کارکنوں کی ضمانت قبل از وقت گرفتاری کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ملزمان کو 30 ، 30 ہزار روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیدیا۔

سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق رکن قومی اسمبلی عالمگیر خان نے کہا کہ ہمارے خلاف درجنوں کی تعداد میں مقدمات قائم کئے جارہے ہیں۔ قتل اقدام قتل کی دفعات کے تحت مقدمات درج کئے جارہے ہیں۔

عالمگیر خان نے کہا کہ ہمارے خلاف ریاستی جبر کیا جارہا ہے۔ ریاستی مشینری جو ہماری حفاظت کے لئیے ہوتی ہے اسے ہمارے خلاف استعمال کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اوپر اسٹریٹ فائر کئے جارہے ہیں شیلنگ کی جارہی تھی۔ عمران خان سے یکجہتی کے لئیے کراچی کے 15 مقامات پر پر امن احتجاج کیا جارہا تھا۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ویسٹ کی عدالت نے بنارس چوک پر پی ٹی آئی کے احتجاج سے متعلق رکن سندھ اسمبلی سعید آفریدی اور دیگر ملزمان کیخلاف مقدمے میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کرلی۔

کراچی سٹی کورٹ میں بنارس چوک پر تحریک انصاف کے احتجاج سے متعلق ایم پی اے سعید آفریدی اور دیگر ملزمان کیخلاف مقدمے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر سماعت ہوئی۔

عدالت نے ملزمان کی درخواست منظور کرتے ہوئے 20،20 ہزار روپے ضمانت کے عوض جمع کرانے کا حکم دیدیا۔ پولیس کی جانب سے مقدمے میں کسی بھی شخص کو گرفتار نہیں کیا گیا تھا۔

سٹی کورٹ میں سماعت کے بعد غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے سعید آفریدی نے کہا کہ پرامن احتجاج ہمارا جمہوری حق ہے۔ پولیس نے مقدمے میں جھوٹے الزامات ظاہر کیے۔ سندھ حکومت کی پولیس انتقامی کارروائیوں کے حوالے سے پہلے ہی مشہور ہے۔

سعید آفریدی نے کہا کہ جعلی مقدمات سے پی ٹی آئی ورکرز کے حوصلے پست نہیں ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت کے بنائے مقدمات کی حیثیت ردی کے کاغذ سے زیادہ نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: