تین روزہ پھلوں کی خریداری کا بائیکاٹ:‌ آواز صارف اور عوام ساتھ ساتھ

رمضان کی آمد کے ساتھ ہی گراں فروشوں نے پھلوں کی قیمت اچانک کئی گنا بڑھادی ہے جس کی وجہ سے دیگر چیزوں کے ساتھ پھل بھی افطار کے لیے خریدنا مشکل ہوگیا ہے۔

منافع خوری کی اس وبا سے پریشان عوام نے سوشل میڈیا پر ایک مہم چلائی ہے جو بہت تیزی سے مقبول ہورہی ہے۔ اکثر افراد نے کہا ہے کہ وہ اس جمعے سے اتوار تک پھل اور میوے نہ خریدیں جس کی باعث پھلوں کی بڑی تعداد پڑے پڑے خراب ہوجائے گی۔

فیس بک اور واٹس ایپ پر چلنے والی اس مہم میں ایک صارف نے کہا ہے کہ صرف تین دن افطاری سے قبل سالن تیار کریں۔ ایک کھجور سے افطار کرنے کے بعد سالن اور روٹی سے روزہ افطار کرلیں اور اس طرح فروٹ کی ضرورت نہیں رہے گی۔ تین دن تک فروٹ کے بائیکاٹ سے گوداموں میں رکھا فروٹ سڑنا شروع ہوجائے گا اور پھر منافع خور تاجر اسے اصل سے بھی سستا فروخت کرنے پر راضی ہوجائیں گے۔

 

ایک اور مہم میں کراچی کے رہائشیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مہنگے پھلوں کا تین روز تک بائیکاٹ کیا جائے اور اس کے خلاف آواز اُٹھائی جائے۔

اس کے علاوہ ذرائع ابلاغ اور مختلف ویب سائٹس پر بھی اس مہم سے متعلق خبریں چل رہی ہیں ۔ توقع ہے کہ عوامی قوت سے شروع ہونے والی یہ مہم اگلے چند گھنٹوں میں مزید مقبولیت اور شدت اختیار کرجائے گی۔

اس مہم کا آغاز نجی این جی او آواز صارف کی جانب سے شروع کیا گیا، چیئرپرسن حسن آراء نے ذرائع نمائندے کو بتایا کہ ابتدائی طور پر یہ مہم کراچی کے لیے شروع کی گئی تاہم اس سے پورے ملک کے لوگ متاثر ہیں۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس مہم کو کامیاب بناتے ہوئے صرف تین روز پھل نہ خریدیں تاکہ تین روز بعد غریب صارف بھی پھل خرید سکیں۔

حسن آرا نے تمام لوگوں سے التماس کی کہ وہ کسی نہ کسی طرح مہم کا حصہ بنیں اور سوشل میڈیا پر اپنے ویڈیو کلپ بنا کر شیئر کریں تاکہ احتجاج اعلیٰ ایوانوں تک پہنچے اور متبرک ماہ میں ناجائز منافع خوروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جاسکے۔

انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ سوشل میڈیا پر درج ذیل ہیش ٹیگ کے ساتھ اپنی تصاویر، ویڈیو پیغامات شیئر کریں

#BoycottFruits
#KarachiDecide
#KarachiStand
#مہنگے_پھل_نامنظور

اپنا تبصرہ بھیجیں: