عمران کو بادشاہ تسلیم کرکے حکومت حوالے کر دی جائے،مصطفیٰ کمال

کراچی:ایم کیو ایم رہنمامصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ وزیراغطم سمیت تمام سیاستدانوں کوہتھکڑی لگا کرعمران کے سامنے پیش ہوناچاہے کیونکہ عدالت سمیت تمام ادارے ان کے انڈرمیں ہے میرے خیال میں حکومت میں نامرد لوگ ہے اس وقت پاکستان کا نظام رک چکا ہے اس نظام میں آئین و قانون کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

ہفتے کو احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایم کیو ایم رہنماء مصطفیٰ کمال نے کہا کہ جو طاقتور قانون کی خلاف ورزی کرے اسکو ملک کے جوڈیشری اسٹبلشمنٹ حکومت کچھ نہیں کہتے سارا آئین اور قانون صرف غریب اور کمزور کے لئے ہےعوام کو مشورہ ہے بدمعاش بنے عمران خان کو بادشاہ سلامت بنانے کا اعلان کیا جانا چاہیے غلطی نظام چلانے والوں کی ہے لوگ بے روزگاری سے مررہے ہیں،کسی کو پرواہ نہیں پانچ پانچ بجے تک عدالت لگائی جارہی ہیں عام شہری کے لئے دو بجے کے بعد ریڈر تک دستیاب نہیں ہوتا ریاست کو صرف غریب پر قانون نافذ کرنا آتا ہے لوگ امریکا برطانیہ نہیں بنگلہ دیش منتقل ہورہے ہیں ہم جلسہ کررہے ہیں باغ جناح میں کراچی والوں کو بتانا ہے اس ملک میں یکطرفہ نظام نہیں چلے گا پاکستان کے نظام کو ری اسٹارٹ کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہاکہ حکومت کیوں اپنا مذاق بنا رہے ہیں اسمبلی کو وزیر اعظم کی سربراہی میں عمران خان سے ملاقات کرنا چاہیے عمران خان سے اجتماعی معافی مانگ کر انہیں بادشاہ مان لینا چاہیے عمران خان سے کہہ دینا چاہیئے کہ جو اپ کہیں گے وہ مانیں گے جو خان صاحب کہیں وہی آئین و قانون ہے غریب بغیر مقدمات کے سالوں جیلوں میں ہڑتال رہتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ وزیراغطم سمیت تمام سیاستدانوں کوہتھکڑی لگا کرعمران کے سامنے پیش ہوناچاہے کیونکہ عدالت سمیت تمام ادارے ان کے انڈرمیں ہے میرے خیال میں حکومت میں نامرد لوگ ہے مردم شُماری پر ہم نے ہر فورم پر اپنے تحفظات اٹھائے ہیں۔

مصطفیٰ کمال نے کہاکہ پیپلز پارٹی کی اے پی سی میں اس لئے نہیں گئے جلسے کی وجہ سے میری گورنر سے ملاقات نہیں ہوئی مجھے نہیں پتہ سسٹم کے حوالے سے انہوں نے کیا بات کی ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: