علامہ صوفی عبدالقیوم کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے، مفتی منیب الرحمٰن

کراچی:مفتی منیب الرحمن نے علامہ صوفی عبدالقیوم کے ظالمانہ قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ، صوبائی وزیرِ داخلہ،آئی جی پولیس اور ایڈیشنل آئی جی کراچی سے مطالبہ کیا ہے کہ قاتلوں کو قانون کی گرفت میں لے کر کیفرِ کردار تک پہنچائیں۔

مفتی منیب الرحمان نے کہا کہ علامہ صوفی عبدالقیوم اہلسنّت کے ممتاز عالمِ دین تھے۔ آپ جامع مسجد محمدیہ نورانیہ اسلامک سینٹر، آرکیٹیکٹ سوسائٹی بلاک9، گلستانِ جوہر کراچی کے خطیب ومہتمم و خواتین اسلامک مشن یونیورسٹی گلشنِ اقبال کے پرنسپل اور جامعہ انوار القرآن گلشنِ اقبال کے سابق مدرّس تھے،آپ کو اپنی مسجد میں نمازِ فجر پڑھاکر گھر جاتے ہوئے سر میں گولی مار کر شہید کردیا گیا۔ فَاِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔

انہوں نے کہا کہ کہاجاتا ہے اس شہادت میں جامع مسجد عائشہ اے پی پی سوسائٹی بلاک نمب 8 گلستانِ جوہر پر قبضہ گروپ ملوّث ہے۔ واللہ اعلم بالصّواب، اے پی پی سوسائٹی نے اس مسجد کی زمین تحریری طور پر سیلانی ویلفیئر انٹرنیشنل ٹرسٹ کو دی تھی اور سیلانی ٹرسٹ نے اس مسجد کو تعمیر کیا اور اپنا امام وخطیب مقرر کیا تو کچھ لوگوں نے اس پر ناجائز قبضے کی مہم شروع کردی۔

صوفی عبدالقیوم کا یہ قتل اسی کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے۔ ہم اس ظالمانہ قتل کی شدید مذمت کرتے ہیں، علامہ صوفی عبدالقیوم رحمہ اللہ تعالیٰ انتہائی شریف النفس کم گو اور متقی شخص تھے۔

انہوں نے کہاکہ ہم وزیرِ اعلیٰ سندھ، صوبائی وزیرِ داخلہ، آئی جی پولیس اور ایڈیشنل آئی جی کراچی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ قاتلوں کو قانون کی گرفت میں لے کر کیفرِ کردار تک پہنچائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: