موٹر وے کرپشن:بینکنگ کورٹ کا فیصلہ کالعدم

کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے حیدر آباد سکھر موٹر وے میں 3 ارب روپے کے کرپشن اسکینڈل میں بینک برانچ منیجر نوشہرو فیروز مختیار علی چانڈیو اور سعود الحق کی درخواست ضمانت پر بنکنگ کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے درخواست ضمانت پر 10 روز میں فیصلہ کرنے کا حکم دیدیا۔

جسٹس محمد اقبال کلہوڑو کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے روبرو حیدر آباد سکھر موٹر وے میں 3 ارب روپے کے کرپشن اسکینڈل کیس میں بینک برانچ منیجر نوشہرو فیروز مختیار علی چانڈیو اور سعود الحق کی درخواست ضمانت کی سماعت ہوئی۔

سرکاری وکیل جی ایم بھٹو نے موقف دیا تھا کہ موٹروے کرپشن اسکینڈل میں سرکاری اور پرائیویٹ ملزمان ملوث ہیں۔ ڈی سی سمیت اسکینڈل میں ملوث چار ملزمان ملک سے بھاگ چکے ہیں۔ 3.4 بلین کی کرپشن ہے لاکھوں لوگ موٹروے پر سفر کرتے ہیں۔ کیس بہت بڑا ہے معاملہ نیب کو منتقل ہونا چاہئے۔

جسٹس محمد اقبال کلہوڑو آجکل تو سارے کام ایف آئی اے کررہا ہے۔ وائٹ کالر کرائم کو پکڑنے کے لیے قوانین عملدرآمد ہونا چاہئے۔

عدالت نے سرکاری وکیل سے مکالمے میں کہا کہ قانون پر عملدرآمد کریں یا پھر قانون میں تبدیلی کریں۔ ہم چاہتے ہیں کیسز کو لٹکانے کے بجائے بروقت نمٹایا جائے۔

عدالت نے بنکنگ کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے درخواست ضمانت کی سماعت کے لیے معاملہ دوبارہ ٹرائل کورٹ کو ارسال کردیا۔

عدالت نے ٹرائل کورٹ دستیاب شواہد کی روشنی میں درخواست ضمانت کی سماعت کرکے 10 روز میں فیصلہ کرنے کا حکم دیدیا۔

ایف آئی اے کے مطابق ملزم سعود الحق سابق ڈپٹی کمشنر تاشفین عالم کا قریبی رشتے دار۔ ملزمان نے کرپشن سے حاصل شدہ رقم کی منتقلی سے متعلق منصوبہ بندی کرتے تھے۔
ملزمان واٹس ایپ کے ذریعے سابق ڈپٹی کمشنر تاشفین عالم سے ہدایت لیتے تھے۔

سابق ڈپٹی کمشنر نوشہرو فیروز تاشفین عالم، پٹواری ٹھارو خان سولنگی اور سیاسی رہنما رحمت سولنگی ٹھیکیدار اصغر جتوئی تاحال مفرور ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: