ایک روز قبل رویت ہلال کمیٹی کی جانب سے رات گئے رمضان المبارک 1444 ہجری کا چاند نظر آنے کے بعد ایک نئی بحث کا آغاز ہوگیا تھا۔
ہر ایک کل کے اعلان پر کچھ نہ کچھ شکوک و شبہات رکھتا تھا اور وہ کسی نہ کسی طریقے سے اپنے خدشات کا اظہار بھی کررہا تھا۔
کچھ نے تو یہ تک کہا کہ چاند ہوا نہیں بلکہ کروایا گیا ہے کیونکہ جمعے کا پہلا روزہ حکومت پر بھاری پڑتا ہے۔
ان ساری باتوں کیوجہ رویت ہلال کمیٹی کی ماضی کی کارکردگی بھی تھی جبکہ پڑوس ممالک بھارت، بنگلادیش میں چاند نظر نہ آنا بھی اس کی ایک وجہ تھی۔
چاند کے اعلان کے بعد رات گئے ساڑھے دس بجے مساجد میں تراویح کی نماز ہوئی، مساجد میں بھی نمازی چاند کے معاملے پر بات کرتے ہوئے نظر آئے۔
آج افطار کے بعد یہ ساری بحث اس وقت دم توڑ گئی جب افق پر چاند نمودار ہوا جو اپنی موٹائی کیوجہ سے واضح طور پر دوسرے دن کا لگ رہا تھا کیونکہ پہلے دن پیدائش کے بعد چاند بہت باریک ہوتا ہے۔
آپ کے خیال میں آج روزے کا فیصلہ درست تھا؟ کمنٹس میں آگاہ کریں۔