گاڑی مالکان سے 500 روپے ریڈیو لائسنس فیس وصول کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی ذیلی کمیٹی نے پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کی مالی ضروریات پوری کرنے کیلئے تمام گاڑیوں کے مالکان سے رجسٹریشن اور ٹوکن فیس کی ادائیگی کے وقت 500 روپے فیس ریڈیو سبسکریپشن کی مد میں وصول کی تجویز دیدی ہے ۔

پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن(پی بی سی)کے تمام ملازمین کو 20 رمضان سے قبل تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی یقینی بنانے کی ہدایات جاری کردی ہیں کمیٹی نے ریڈیو پاکستان کو مالی طور پر خودمختار ادارہ بنانے کا منصوبہ تیار کرنے کیلئے ایڈیشنل سیکرٹری سہیل علی خان کو پی بی سی کا کوآرڈینیٹر مقررکردیا ہے اور سینیٹر عرفان صدیقی نے پی بی سی کو ایک جامع منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت کی جس سے پی بی سی کو مالی خود مختاری حاصل کرنے میں مدد مل سکے۔

یہ تجویز اور ہدایات سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی ذیلی کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر عرفان الحق صدیقی نے جمعہ کو یہاں پارلیمنٹ ہاوس میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دی ہیں اجلاس میں سینیٹر سید وقار مہدی، ایڈیشنل سیکرٹری وزارت اطلاعات و نشریات سہیل علی خان، ڈی جی پی بی سی طاہر حسن اور پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کے دیگر سینئر افسران شریک ہوئی۔

جمعہ کوپارلیمنٹ ہاوٴس میں سینیٹر عرفان الحق صدیقی کی زیر صدارت ہونیوالے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں ریڈیو پاکستان کو درپیش مالی مسائل پر غور کیا گیا اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن(پی بی سی) طاہر حسن نے بتایا کہ گزشتہ دو سالوں سے خسارہ مسلسل بڑھ رہا ہے اور ریڈیو پاکستان کا موجودہ خسارہ دو ارب24کروڑساٹھ لاکھ سات ہزار روپے ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خسارے میں اضافے کی ایک بنیادی وجہ گرانٹ ان ایڈ کا بند ہونا ہے جو چائنا ریڈیو انٹرنیشنل کی طرف سے ہر اسٹیشن کو دی جاتی تھی اور جس کی مالیت تقریباً 12 کروڑ روپے تھی۔

سینیٹر عرفان صدیقی نے تجویز دی کہ تمام گاڑیوں کے مالکان سے رجسٹریشن اور ٹوکن فیس کی ادائیگی کے وقت 500 روپے فیس ریڈیو سبسکریپشن کی مد میں وصول کی جائے۔

انہوں نے پی بی سی کو ہدایت کی کہ وہ تمام ملازمین اور پنشنرز کو 20 رمضان سے قبل پنشن اور تنخواہ کی ادائیگی کو یقینی بنائے۔ مزید برآں سینیٹر سید وقار مہدی نے استفسار کیا کہ بقایا واجبات جو کہ نجی افراد یا اداروں کی جانب سے گزشتہ چند سالوں سے ادا نہیں کیے جا رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن نے واجبات کی وصولی کے حوالے سے کیا اقدامات کیے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: