کشمیر وفلسطین کی طرح ظلم کیا جا رہا ہے : عمران ، امریکی، یورپی، برطانوی پارلیمنٹ کو خطوط

لاہور ،اسلام آباد،ملتان: حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور تحریک انصاف کی قیادت و کارکنان کی غیر قانونی پکڑ دھکڑ، چھاپوں،تشد د کے معاملے پر سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے یورپی پارلیمنٹ، ہاؤس آف کامن، آئی پی یو، سی پی اے، ہاؤس آف لارڈ، امریکی ایوان نمائندگان، ہائی کمشنر زسمیت دنیا کے مختلف فورمز کو خطوط ارسال کر دئیے۔

چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ ہم پر اس طرح ظلم کر رہے ہیں جیسے یہ کشمیر یا فلسطین ہو،لاہور کی انسداد دہشتگردی کی عدالت نے تین مقدمات میں عمران خان کی عبوری ضمانت منظور کرلی، پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا اور پنجاب میں انتخابات کے التوا پر الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا۔

اسد قیصر نے عالمی تنظیموں کو خط میں لکھا ہے کہ بطور سابق سپیکر پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں علم میں لانا چاہ رہا ہوں، تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے، سیاسی ہارس ٹریڈنگ کے بعد پی ٹی آئی نے فریش مینڈیٹ کا فیصلہ کیا اور ایوان سے مستعفیٰ ہوئے، خیبرپختونخوا اور پنجاب میں نگران حکومتوں نے سیاسی ورکروں کی آواز دبانے کیلئے شدید انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کیں ، عمران کو سیاست سے نکالنے کیلئے جھوٹے فوجداری مقدمات درج کیے گئے۔

ان کو قاتلانہ حملے میں 11 گولیاں ماریں اور 127 مقدمات درج کیے گئے،انکے گھر پر متعدد حملے اور کارکنان پر تشدد کیا گیا، پی ٹی آئی کارکن ظل شاہ کو پنجاب پولیس نے حراست کے دوران تشدد سے قتل کیا ، پی ڈی ایم پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ پر جعلی آڈیو اور ویڈیو کے ذریعے بلیک میلنگ حملے کر چکی ، حکومتی کارروائیوں کو نہ روکا گیا تو تحریک انصاف پر غیر آئینی طور پر پابندی عائد کیے جانے کا امکان ہے ، الیکشن کمیشن نے غیر آئینی طور پر دو صوبوں میں سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود انتخابات ملتوی کیے، مریم نواز نے سیاسی ورکروں کو تعصب اور نسل پرستانہ قرار دیا، عالمی تنظیمیں پاکستانی عوام کی سیاسی نسل کشی، جمہوریت کی تباہی کو روکنے میں کردار ادا کریں جبکہ عمران خان تین مقدمات میں ضمانت کے لیے انسداد دہشتگردی کی عدالت پہنچے۔عمران خان کے خلاف تھانہ ریس کورس میں تین مقدمات درج ہیں ،عمران کی ان مقدمات میں ہائیکورٹ نے حفاظتی ضمانت منظور کی تھی اور انہیں متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔عمران کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہےکہ شامل تفتیش ہونا چاہتا ہوں لیکن پولیس کی جانب سےگرفتاری کاخدشہ ہے،عدالت تینوں مقدمات میں عبوری ضمانت منظورکرکے پولیس کوگرفتاری سے روکے۔ عدالت نے 4 اپریل تک عبوری ضمانت منظور کرلی۔ع

مران خان نے فول پروف سکیورٹی کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی۔عمران نے سکیورٹی کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں متفرق درخواست دائر کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ سکیورٹی نہیں مل رہی جو سابق وزیراعظم کی حیثیت سے میرا حق ہے ، میری زندگی کو خطرہ ہے ، سکیورٹی فراہم نہ کرنا آئین اور بنیادی حقوق کے منافی ہے۔اسد عمر نے ٹویٹ میں بتایا کہ الیکشن کمیشن کے پنجاب اسمبلی الیکشن ملتوی کرنے کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں پٹیشن جمع کر ا دی ، سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان اور سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی مشتاق غنی نے مشترکہ آئینی درخواست دائر کی۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے آئینی مینڈیٹ اور عدالت کے فیصلے سے انحراف کیا، الیکشن کمیشن کو شیڈول کے مطابق 30 اپریل کو ہی الیکشن کرانے کا حکم دیا جائے۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے کرتے ہوئےعمران خان نے کہا ہے کہ مینار پاکستان جلسے کو ناکام بنانے کے لئے ہمارے 1600 کارکنان کو گرفتار کر لیا گیا ، پورے ملک میں کنٹینرز لگا کر مقبوضہ کشمیر بنایا ہوا ہے، جو قوم بڑے فخر سے آزاد ہوئی تھی اس آزادی کو حکومت نے ختم کر دیا ہے، یہ ہمارے لوگوں کو ٹارچر کر رہے ہیں، ان کو اٹھا رہے ہیں، یہ جو بھی حربے استعمال کر رہے ہیں،ہم دلدل میں پھنس رہے ہیں، لوگ آٹے کی لائنوں میں مر رہے ہیں ۔

امریکی میڈیا کو انٹرویو میں عمران نے کہا کہ عمران خان کا کہنا ہے کہ معلوم نہیں کہ مجھے نا اہل قرار دے دیا جائے گا یا نہیں ؟ حکومت انتخابات کروانے سے خوف زدہ ہے، انہیں ڈر ہے کہ ہم الیکشن جیت جائیں گے، مجھے ہٹانے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے، جیل میں ہوں یا باہر پارٹی الیکشن جیتےگی ، ہمارےدور میں عدالتی کام میں مداخلت نہیں تھی، جیسے پہلے ہوتا آیا جبکہ ہم نے میڈیا میں بھی مداخلت نہیں کی، میڈیا سے کوئی مسئلہ تھا تو ہماری وجہ سے نہیں،اسٹیبلشمنٹ کی وجہ سے تھا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی نے عدالت کی حکم عدولی کی سزا سنائی گئی تھی اور ان کی وزارت عظمیٰ چلی گئی تھی، شہباز شریف وہی کچھ کررہے ہیں اور وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو اگر لاڈلے نہ ہوئے تو ان کا انجام بھی وہی ہو سکتا ہے۔لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے تحریک انصاف کے رہنماؤں کی عبوری ضمانت مسترد کردی۔عدالت نے فواد چوہدری، حماد اظہر اور فرخ حبیب کی عبوری ضمانت مسترد کی ہے۔پولیس پر تشدد، جلاؤ گھیراؤ اور کار سرکار میں مداخلت کے مقدمہ میں پیش نہ ہونے پر عبوری ضمانت مسترد کی گئی۔

عدالت نے عدم پیروی کی بنیاد پر عبوری ضمانت مسترد کی ۔پنجاب پولیس نے رات گئے سیالکوٹ میں عثمان ڈار کے گھر پر چھاپا مارا لیکن وہ گھر پر موجود نہیں تھے۔ چھاپے پر عثمان ڈار نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میری غیر موجودگی میں میرے گھر پر دھاوا بولا گیا،چھاپا ایسے مارا گیا جیسے کسی دہشت گرد کو گرفتار کرنا ہو۔ پولیس کی جانب سے گزشتہ روز بھی ملتان سمیت جنوبی پنجاب میں کارکنان کی گرفتاری کیلئے آپریشن جاری رہا۔

ذرائع کے مطابق پولیس جنوبی پنجاب سے سینکڑوں کارکنان کو گرفتار کر چکی ہے، ملتان سے 70 سے زائد کارکنان گرفتاری عمل میں لائی جا چکی ہے، حسن خان علیزئی قافلے کے ساتھ مینار پاکستان جلسے میں شرکت کے لئے روانہ ہونے ہی والے تھے کہ پولیس نے گرفتار کر لیا، ملتان میں گرفتار کارکنان کو تھری ایم پی او کے تحت 30 دن کے لئے نظر بند کر دیا گیا ۔ اسی طرح وہاڑی ، لودھراں، بہاولپور، رحیم یار خان، ڈیرہ غازی خان، راجن پور، خانیوال،جتوئی سمیت دیگر شہروں سے بھی درجنوں کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: