انتخابات ہو کر رہیں گے، حکمرانوں کو بھاگنے نہیں دیں گے:عمران

لاہور،اسلام آباد: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف و سابق وزیراعظم عمران خان نے انتخابی امور کیلئے پارٹی کا الیکشن سیل قائم کر دیا، ہمایوں اختر خان کو پی ٹی آئی الیکشن سیل کا فوکل پرسن مقرر کیا گیا ہے۔

پی ٹی آئی کے الیکشن سیل میں اعجاز چوہدری، ریاض فتیانہ، رائے عزیز اللہ بطور ممبر کام کریں گے، پارٹی الیکشن سیل انتخابات کے حوالے سے تکنیکی امور کو دیکھے گا، ووٹر لسٹوں، بلاک کوڈز اوردیگر تکنیکی معاملات پر امیدواروں کی معاونت بھی کرے گا۔

عمران خان کا کہنا ہے الیکشن سیل بھرپور اندازسے انتخابی امور سے پارٹی قیادت اور امیدواروں کو آگاہ رکھے گا۔

عمران خان نے کہا ہے کہ آئین کے مطابق انتخابات ہو کر رہیں گے، حکمرانوں کو اس سے بھاگنے نہیں دیں گے، حکمرانوں کو آئین سے انحراف کر کے انتخابی عمل سبوتاژ کرنے کیخلاف آئینی، قانونی اورسیاسی محاذ پر جدوجہد کریں گے۔

عمران خان نے مینار پاکستان جلسے کی کامیابی پر لاہوریوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔

اپنے ٹویٹ میں انہوں نے کہا لاہور کو بند کرنے اور ہمارے 2 ہزار کارکنوں کو گرفتار کرنے کے باوجود لاہور کے لوگ مینار پاکستان جلسےکو کامیاب بنانے کیلئے بڑی تعداد میں آئے۔ خاص طور پر لاہوریوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے مایوس نہیں کیا، آپ پر فخر ہے۔

تحریک انصاف کے مرکزی صدر و سابق وزیراعلی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے کہا ہے مینار پاکستان جلسے کےعوامی ریفرنڈم نے عمران خان کے حق میں فیصلہ سنا دیا ہے۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا عمران خان اس وقت پاکستان کے سب سے مقبول ترین لیڈر ہیں،لاہور کے جلسے سے مخالفین کی اچھی طرح آنکھیں کھل گئی ہوں گی، نگران حکومت ، پی ڈی ایم نے جلسے کے راستے میں ہر رکاوٹ کھڑی کی لیکن عوام پھر بھی مینار پاکستا ن پہنچے ، مینار پاکستان پر عوام نے فیصلہ سنا دیا وہ آئین کیساتھ کھڑے ہیں،شہباز شریف سن لیں الیکشن سے راہ فرار ممکن نہیں۔

صدر مملکت نے شہباز شریف کیخلاف آئینی چارج شیٹ فریم کی ہے ، جوابی خط سے کچھ نہیں ہوگا، حکمرانوں کو آئین سے انحراف کا سپریم کورٹ کے سامنے جواب دینا ہوگا۔

تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے اپنے ٹویٹ میں کہاصدر مملکت نے اپنے خط میں شہباز شریف کو آئین پر عمل کرنے کا مشورہ دیا، ظاہر ہے یہ بات ان کو تحریک انصاف کی پریس ریلیز ہی نظر آئیگی، اگرصدر مملکت کے اسمبلی توڑنے اور نئے الیکشن میں جانے کے اقدام پر عمل ہوتا تو آج ملک اس آئینی،سیاسی اور معاشی گرداب میں پھنسا نہ ہوتا اورہم مستحکم جمہوریت ہوتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: