الیکشن التوا کیس: سپریم کورٹ کا بینچ پھر ٹوٹ گیا, جسٹس جمال مندوخیل کی سماعت سے معذرت

اسلام آباد : سپریم کورٹ کے عدالتی عملے نے اعلان کیا ہے کہ الیکشن التواء کیس کی سماعت کمرۂ عدالت نمبر 1 میں نمازِ جمعہ کے بعد 2 بجے ہو گی۔
عدالتی عملے کے مطابق چیف جسٹس پاکستان عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ کیس کی سماعت کرے گا، جسٹس اعجاز الاحسن، اور جسٹس منیب اختر بینچ کا حصہ ہوں گے۔
اس سے قبل جسٹس جمال خان مندوخیل نے الیکشن التواء کیس سننے سے معذرت کر لی جس کے بعد سپریم کورٹ آف پاکستان کا بینچ ایک بار پھر ٹوٹ گیا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان میں پنجاب اور خیبر پختون خوا کے انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف کیس کی سماعت کے لیے مقررہ وقت پر چیف جسٹس پاکستان عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں 4 رکنی بینچ کمرۂ عدالت پہنچا۔
بینچ میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منیب اختر اور جسٹس جمال مندوخیل بھی شامل تھے۔اس موقع پر اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان روسٹرم پر آ گئے۔
چیف جسٹس پاکستان عمر عطاء بندیال نے انہیں روکتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب! آپ سے پہلے جسٹس جمال خان مندوخیل کچھ کہنا چاہتے ہیں۔
اس موقع پر جسٹس جمال مندوخیل نے کیس سننے سے معذرت کر لی اور کہا کہ جسٹس امین الدین خان نے کیس سننے سے معذرت کی، جسٹس امین کے فیصلے کے بعد مجھے حکم نامے کا انتظار تھا، مجھے عدالتی حکم نامہ کل گھر میں موصول ہوا۔
انہوں نے کہا کہ حکم نامے پر میں نے الگ سے نوٹ تحریر کیا ہے، اٹارنی جنرل صاحب آپ اختلافی نوٹ پڑھ کر سنائیں۔اٹارنی جنرل نے جسٹس جمال مندوخیل کا اختلافی نوٹ پڑھ کر سنایا۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ میں بینچ کا ممبر تھا، مگر میرے ساتھ فیصلہ تحریر کرتے وقت مشاورت نہیں کی گئی، میں سمجھتا ہوں کہ میں بینچ میں مس فٹ ہوں۔
انہوں نے کہا کہ دعا ہے کہ اس کیس میں جو بھی بینچ ہو، ایسا فیصلہ آئے جو سب کو قبول ہو، اللّٰہ ہمارے ادارے پر رحم کرے، میں اور میرے تمام ساتھی ججز آئین کے پابند ہیں۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ میں کل بھی کچھ کہنا چاہ رہا تھا، شاید فیصلہ لکھواتے وقت مجھ سے مشورے کی ضرورت نہیں تھی یا مجھے مشورے کے قابل نہیں سمجھا گیا، اللّٰہ ہمارے ملک کے لیے خیر کرے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: