جنرل (ر) باجوہ نے کس کام کے لئے دبائو ڈالا ؟عمران نے صحافیوں کو بتا دیا

لاہور : چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ 90 روز کے اندر الیکشن نہ ہوئے تو ہم سڑکوں پرہونگے،90 روزمیں الیکشن نہ ہوئے توملک میں آئین باقی نہیں رہےگا، جنرل(ر)باجوہ بھارت سے دوستی چاہتاتھاجس کے لیے مجھ پر دباؤ بھی ڈالا گیا،اس لیے معاملات خراب ہوئے۔
صحافیوں سے گفتگو میں عمران نے کہا کہ جنرل (ر)باجوہ ایک دن کچھ کہتاہے دوسرے دن اس سے مکر جاتا ہے،احتساب فوج کے اندر سے ہونا چاہئے،عارف علوی ہمارے اور اسٹیبلیشمنٹ کے درمیان ثالثی میں کوئی کا کردار ادا نہیں کر رہے، شاہ محمود اور پرویز الٰہی کو دوسری جماعتوں سے رابطہ بحال کرنے کا ٹاسک دیدیا ہے، پارٹی کے کسی بھی رکن کے دیگر جماعتوں اور سیاسی شخصیات سے ملنے پر کوئی پابندی نہیں، سپریم کورٹ نے پہلے سوموٹو کے ذریعے اسمبلی بحال کی تو اس وقت سو موٹو ٹھیک تھا، اب سپریم کورٹ نے الیکشن کیلئے سو موٹو لیا تو یہ لوگ سپریم کورٹ کے پیچھے پڑ گئے ہیں، کس قانون کے تحت توڑی گئی پنجاب اور کے پی اسمبلیاں بحال ہو سکتی ہیں ، گھر پر حملے سے متعلق کیس تیار کر لیا ، جلد ہی فائل کر دیا جائے گا۔
سیشن عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ تحریک انصاف نے آئین کی پاسدای اور جمہوریت کی بقاء اور تسلسل کیلئے مختلف سیاسی جماعتوں سے رابطے کا فیصلہ کیا ہے اس سلسلے میں ایم کیو ایم پاکستان سے رابطہ کیا ہے،سندھ کی دیگر سیاسی جماعتوں اور جماعت اسلامی سے کل بات ہو گی ، حکومت آئین پر حملہ کر رہی ہے اور ہم آئین پر عمل چاہتے ہیں،آئین پر عمل نہ کیا گیا تو ملک کو بہت نقصان ہو گا ۔
فواد چوہدری نے مریم اورنگزیب کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے کا اعلان کر دیا۔پارٹی کی کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد بریفنگ دیتے ہوئے فواد نے کہا کہ نواز شریف پاکستان کی عدلیہ کو دھمکیاں دے رہے ہیں ، اگر کوئی سنجیدہ مذاکرات ہوتے ہیں تو ہم آگے چلیں گے، عمران پر 40 مقدمے دہشت گردی کے ہیں ۔
مسرت جمشید چیمہ کا کہناہے کہ آئین کی بالادستی تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی جبکہ لاہورہائی کورٹ نے عمران کی تقاریر نشر کرنے پر پابندی کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا ،عدالت نے پیمرا کو ہدایت کی کہ عمران خان کی تقا ریر نشر کرنے پر کوئی پابندی نہ لگائی جائے ۔ عمران کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے نیب کی جانب سے طلبی کو عدالت میں چیلنج کردیا جس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے درخواست کو پیر کو سماعت کے لیے مقرر کردیا۔ درخواست میں بشریٰ بی بی نے استدعا کی کہ درخواست پر فیصلہ آنے تک نیب کو میرے خلاف تادیبی کاروائی سے روکنے کا حکم دیا جائے۔
سیشن عدالت میں اسلام آباد پولیس کو عمران خان کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل سے روکنے کے الزام میں درج مقدمہ میں شاہ محمود اور فواد کی عبوری ضمانتوں میں 13 اپریل تک توسیع کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر ایس پی انویسٹی گیشن کو تفتیشی افسر کی حاضری یقینی بنانے کا حکم دے دیا۔، شاہ محمود اور فواد نے عدالت میں پیش ہو کراپنی حاضری لگائی، عدالت نے پی ٹی آئی رہنماؤں کو تفتیش میں شامل ہونے کا حکم بھی دیاہے۔
مقدمات کی تفتیش کے معاملے میں اسد عمر جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے اور اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔پولیس کے مطابق پی ٹی آئی کے دیگر رہنما خود پیش نہیں ہوئے لیکن اُن کے وکلاء جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے ہیں۔اے ٹی سی لاہور نے کینال روڑ جلاؤ گھیراؤ اور پولیس پر تشدد کے کیس میں مسرت جمشید چیمہ کی عبوری ضمانت 7 اپریل تک عبوری ضمانت منظور کر تے ہوئے پولیس کو گرفتاری سے روک دیا ہے ۔
عدالت نے ایک لاکھ کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم بھی دیاہے ۔اےٹی سی کی جج عبرہ گل خان نے زمان پارک جلاؤ گھیراؤ اور پولیس پر تشدد کے دو مقدمات میں 37 پی ٹی آئی کارکنان کو مقدمات سے ڈسچارج کر دیا ،دوران سماعت تفتیشی افسر نے عدالت کوبتایا کہ37 پی ٹی آئی کارکنان کی شناخت پریڈ میں شناخت نہیں ہو سکی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: