کراچی: سوشل میڈیا کے نوجوانوں کی جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی نے وزیراعلی ہاؤس کی جانب مارچ کیا،پولیس کی بھاری نفری نے اراکین اسمبلی کوروکنے کےلیے پی آئی ڈی سی چوک پر رکاوٹیں لگاکر وزیر اعلیٰ ہاؤس جانے والی سڑک کو بند کردیا۔
تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی کی جانب سے وزیر اعلیٰ ہاؤس میں جبری گمشدگیوں کیخلاف درخواست جمع کرائی گئی۔ ارکان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کارکنان کو اغواء اور لاپتہ کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے ،کارکنان کے گھروں اور دفاتر پر چھاپے بند کئے جائیں،سیاسی سرگرمیوں کیلئے غیر اعلانیہ بندشوں کو ختم کیا جائے۔
اس موقع پر پی ٹی آئی کراچی کے صدر و رکن قومی اسمبلی آفتاب صدیقی،پارلیمانی لیڈر سندھ اسمبلی خرم شیر زمان، ارسلان تاج، بلال غفار، جمال صدیقی، راجا اظہر، فہیم خان ، شہزاد قریشی، شبیر قریشی، عطاء اللہ ، شاہنواز جدون، کیپٹن جمیل ، سعید آفریدی ، اسلم خان، صائمہ ندیم ، غزالہ سیفی ، ڈاکٹر سیماء ضیاء ، ادیبہ حسن سمیت دیگر اراکین موجود تھے۔
آفتاب صدیقی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اس ملک میں آئین معطل ہوگیا ہے، ارسلان تاج کو گھر سے پولیس نے اغواء کیا، 22 کروڑ عوام سوشل میڈیا پر بات کررہی ہے، ہم آئین پاکستان،چیف جسٹس اور عدالتوں کے ساتھ کھڑے ہیں، ہم اس جدوجہد کو جاری رکھیں گے۔
خرم شیر زمان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ سندھ کا وزیراعلیٰ کینیڈا میں قطار میں لگ کر ویزا لگوارہا ہے، ہمارے لوگ لاپتہ ہورہے ہیں، یہ کنٹینر جرائم کرنے والوں کیلئے کیوں نہیں لگائے جاتے۔
پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کا وزیراعلیٰ ہاؤس تک مارچ
