Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
کراچی: یوم تاسیس کی چاکنگ، 4 طالب علم گرفتار، نامعلوم مقام پر منتقل | زرائع نیوز

کراچی: یوم تاسیس کی چاکنگ، 4 طالب علم گرفتار، نامعلوم مقام پر منتقل

کراچی: شہر قائد کے مختلف علاقوں خصوصاً ضلع وسطی میں اے پی ایم ایس او کے یوم تاسیس قریب آتے ہی نامعلوم افراد کی جانب سے بانی ایم کیو ایم اور یوم تاسیس کے حق میں وال چاکنگ کردی گئی۔

حالیہ وال چاکنگ کراچی کے پانچوں ڈسٹرکٹس میں کئی گئی، انٹیلی جنس اداروں نے گزشتہ رات کارروائی کرتے ہوئے ایم کیو ایم لندن کی طلبہ تنظٰم ( اے پی ایم ایس او) کے چار کارکنان  کو چاکنگ کے الزام میں گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔

پہلی کارروائی نیو کراچی کے علاقے یوسی 12 میں ہوئی جہاں سحری سے ایک گھنٹے قبل رینجرز نے گھر پر چھاپہ مار کے سیفی کالج کے کارکن اسد ظہیر کو گرفتار کیا، کچھ ہی دیر بعد نارتھ ناظم آباد میں سادہ لباس اہلکاروں نے سحری کے وقت چھاپہ مار کر بفرزون ڈگری کالج کے کارکن شان زیدی کو گرفتار کرلیا، علاوہ ازیں مختلف علاقوں سےدو افراد کو مزید گرفتار کیا گیا۔

Image may contain: 1 person, selfie
اسد ظہیر (فائل فوٹو)

قانون نافذ کرنے والے ادارےکے ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مذکورہ اشخاص کو بانی ایم کیو ایم کے حق میں وال چاکنگ کرنے پر گرفتار کیا گیا ہے۔ یاد رہے گزشتہ ماہ رینجرز نے علیگڑھ انسٹیٹیوٹ میں چھاپہ مار کر ایم کیو ایم لندن کے ذمہ دار عدیل ملک کو گرفتار کیا تھا جن کی گرفتاری تاحال ظاہر نہیں کی گئی۔

عدیل ملک پر بھی الزام ہے کہ انہوں نے نارتھ کراچی میں رکن قومی و صوبائی اسمبلی سمیت ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت کے خلاف وال چاکنگ کروائی، انٹیلیجنس اداروں نے معلومات ملنے کے بعد کارروائی کی۔

دوسری جانب اے پی ایم ایس او کے ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران اُن کے چار طلب علم گرفتار اور تین لاپتہ ہوئے ہیں۔