مسجدِ اقصیٰ پر اسرائیلی فورسز کی چڑھائی، غزہ پر راکٹ حملہ، 350 فلسطینی گرفتار

بیت المقدس : مسجدِ اقصیٰ پر اسرائیلی فورسز نے حملہ کر کے 350 فلسطینیوں کو گرفتار کر لیا۔اسرائیلی پولیس نے ایک بار پھر مسجدِ اقصیٰ کا تقدس پامال کرتے ہوئے مسجد میں گھسنے کے بعد غزہ میں راکٹ حملہ کیا ہے۔
اسرائیلی پولیس کے مسجدِ اقصیٰ میں گھسنے کی خبر سنتے ہی سیکڑوں فلسطینی مسجدِ اقصیٰ پہنچ گئے جنہوں نے وہاں شدید احتجاج کیا۔
اسرائیلی پولیس نے طلوعِ آفتاب سے پہلے مسجد الاقصیٰ کے احاطے میں نمازیوں پر حملہ کیا، نمازیوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا، نہتے نمازیوں پر گرینیڈ پھینکے۔
اسرائیلی پولیس سے جھڑپوں میں 7 فلسطینی زخمی ہو گئے۔
اسرائیلی پولیس نے خواتین سمیت 350 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کر لیا۔
اسرائیلی فورسز نے مسجدِ اقصیٰ میں گھسنے کے بعد غزہ میں راکٹ حملہ کیا ہے، حماس کا کہنا ہے کہ اس حملے میں اسرائیل نے غزہ میں 2 تربیتی مراکز اور مہاجرکیمپ کو نشانہ بنایا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی پولیس کا دعویٰ ہے کہ انہوں یہ اقدام ڈنڈے اور پتھر اٹھائے مشتعل افراد کے کمپاؤنڈ میں داخل ہونے پر کیا۔اسرائیل نے غزہ سے راکٹ فائر ہونے کا دعویٰ بھی کر دیا.
مسجدِ اقصیٰ میں اسرائیلی فورسز کے حملے پر سعودی عرب، مصر اور اردن کی جانب سے مذمت کی گئی ہے۔
اسرائیلی پولیس کے مسجدِ اقصیٰ میں گھسنے، نمازیوں پر حملے اور ان کوتشدد کا نشانہ بنانے کی فلسطینی صدر نے سخت مذمت کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ قابض طاقت کو مقدس مقام کی سرخ لکیر عبور کرنے کے خلاف خبردار کرتے ہیں جو بڑے تصادم کا باعث بنے گا۔
سعودی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملے سے امن کوششوں کو نقصان پہنچےگا، اس طرح کے اسرائیلی اقدامات مقدس مذہبی مقامات کے احترام کے حوالے سے بین الاقوامی اصولوں اور ضابطوں کی خلاف ورزی ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں: