متنازع بیان پرنبیل گبول خواتین سے غیرمشروط معافی مانگ لی !

کراچی: سوشل میڈیا پر شدید تنقید اور پارٹی کی جانب سے شوکاز نوٹس کے بعد پیپلزپارٹی کےرہنما نبیل گبول نے غلط الفاظ کا استعمال تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بیان پر میڈیا کے توسط سے تمام خواتین سے غیر شروط معافی مانگتا ہوں۔
نبیل گبول نے مزید کہا کہ میرے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پھیلایا گیا۔ یہ بیان جنوری 2023 میں یوٹیوب کے ایک ولاگر کو انٹرویو میں سیاسی زیادتیوں کے سوال کے جواب میں دیا تھا۔
انہوں نے کہاکہ میں نے ایک فرانسیی ناول کا حوالہ دیتے ہوئے معاشرے سے متعلق مثال دی تھی، اس بیان میں کہیں بھی کسی خواتین کا ذکر نہیں کیا گیا۔مجھے پارٹی کی جانب سے بھی شوکاز نوٹس موصول ہوا، پارٹی کو بھی معافی نامہ بھیج دیا ہے۔سوشل میڈیا پر میرے خلاف چلائی جانیوالی مہم کے پیچھے اکثریت پی ٹی آئی والوں کی ہے۔
انہوں نے کہاکہ میں نے سال پہلے کہا تھا کہ عمران خان کو ری لانچ کیا جارہا جس کی وجہ سے ملک آج ان حالات تک آپہنچا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ جو لوگ عمران خان کو دوبارہ لانا چاہتے ہیں وہ اسے استعمال کر کے پھر چھوڑ دینگے اور عمران خان جلد جیل میں ہمارے ساتھ نظر آئیں گے۔
انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ کے پنجاب میں انتخابات سے متعلق فیصلے پر کہا کہ ملک میں کبھی بھی حالات تبدیل ہوسکتے ہیں اور مارشل لا بھی لگ سکتا ہے ۔ ہمارے پاس اتنے پیسے نہیں کہ ہم بلدیاتی انتخابات بھی کرائیں تو صوبائی الیکشن تو دور کی بات ہے، پیسے کہاں سے آئیں گے۔
نبیل گبول نے کہاکہ مجھے اگلے 4 سال میں بھی الیکشن ہوتے نظر نہیں آرہے۔ ملک میں ایسے عناصر موجود ہیں جو صدارتی نظام چاہتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں: